اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پنجاب میں اسموگ اور فضائی آلودگی کی روک تھام کے لیے دھواں خارج کرنے والی نجی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے،
جبکہ گاڑی مالکان کو اپنی گاڑیوں کی فٹنس بہتر بنانے کے لیے 15 اکتوبر 2026 تک مہلت دی گئی ہے۔
سیکریٹری پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی حسن احسن نے اعلان کیا ہے کہ مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد دھواں چھوڑنے والی نجی گاڑیوں کے خلاف کسی امتیاز کے بغیر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ان اقدامات کا مقصد اسموگ کے ممکنہ اثرات کو محدود کرنا اور فضائی آلودگی کا سبب بننے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
اسموگ سے نمٹنے کی تیاریوں کے حوالے سے پریس کانفرنس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ، ماحولیاتی تحفظ کے ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے باہمی تعاون سے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس بھی مختلف اداروں کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں اسموگ کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی تھی۔
حکام کے مطابق کمرشل گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس کے اجرا میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ محکمہ ایکسائز کے ریکارڈ میں پنجاب بھر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد 2 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے خصوصی اسٹیکرز بھی متعارف کرائے گا، جن کی معیاد ایک سال ہوگی۔ حکام کے مطابق اس نظام سے گاڑیوں کی فٹنس اور متعلقہ کارروائی کو زیادہ منظم انداز میں انجام دینے میں مدد ملے گی۔
حسن احسن نے بتایا کہ زیادہ دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے دوران ٹریفک پولیس بھی فیلڈ میں موجود رہے گی اور کریک ڈاؤن میں متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کرے گی۔
حکام نے گاڑی مالکان پر زور دیا ہے کہ وہ 15 اکتوبر 2026 سے قبل اپنی گاڑیوں کی فٹنس اور دھویں کے اخراج سے متعلق خامیاں دور کرلیں، بصورت دیگر مقررہ تاریخ کے بعد خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔



















































