اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ ہی ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے بھی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق سعودی حکومت ایک جانب مقامی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کی غرض سے “سعودائزیشن” پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب مخصوص مہارت رکھنے والے غیر ملکی پیشہ ور افراد کی ضرورت بھی برقرار رہے گی۔رپورٹس کے مطابق آئندہ برسوں میں ایسے غیر ملکی افراد کو ترجیح مل سکتی ہے جو جدید ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، صحت، لاجسٹکس اور دیگر خصوصی شعبوں میں تجربہ اور مہارت رکھتے ہوں۔ اس حکمت عملی کا مقصد مملکت کی معیشت کو مزید متنوع اور عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی بنانا ہے۔
متوقع طور پر جن شعبوں میں ملازمتوں کے مواقع بڑھ سکتے ہیں ان میں کان کنی اور معدنیات، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، لاجسٹکس و ٹرانسپورٹ، اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر، دفاعی صنعت، سیاحت، ثقافتی ورثے سے متعلق منصوبے، تفریح اور کھیلوں کا شعبہ شامل ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں روزگار کے خواہشمند افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت، تکنیکی تربیت اور بین الاقوامی معیار کی اسناد پر توجہ دیں، کیونکہ مستقبل میں انہی شعبوں میں اہل اور تجربہ کار افرادی قوت کی طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔



















































