اسلام آباد (نیوز ڈیسک): برطانیہ نے پاکستانی طلبہ، محققین اور ابھرتے ہوئے کاروباری افراد کے لیے مکمل فنڈڈ تعلیمی اور پیشہ ورانہ پروگراموں کی درخواستیں طلب کر لی ہیں۔
منتخب امیدواروں کو برطانیہ کی ممتاز جامعات اور اداروں میں تعلیم، تحقیق اور مہارتوں میں اضافے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے اس سال تین نمایاں پروگراموں کے لیے درخواستیں کھول دی گئی ہیں، جن میں چیوننگ اسکالرشپس (Chevening Scholarships)، چیوننگ آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز فیلوشپ اور کامن ویلتھ اسٹارٹ اپ فیلوشپ شامل ہیں۔ ان اسکیموں کا مقصد پاکستان کے باصلاحیت افراد کو عالمی معیار کی تعلیم، تحقیق اور کاروباری تربیت تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
چیوننگ اسکالرشپ کے تحت کامیاب امیدوار برطانیہ کی مختلف جامعات میں ایک سالہ ماسٹرز ڈگری مکمل کر سکیں گے، جبکہ آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز فیلوشپ تجربہ کار پیشہ ور افراد اور محققین کو آزادانہ تحقیق کا موقع فراہم کرے گی۔ دوسری جانب کامن ویلتھ اسٹارٹ اپ فیلوشپ ایسے نوجوان کاروباری افراد کے لیے مختص ہے جو اپنے اسٹارٹ اپس کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔
ان پروگراموں کے تحت منتخب امیدواروں کے لیے ٹیوشن فیس، فضائی ٹکٹ، ویزا فیس، رہائش کے اخراجات اور ماہانہ وظیفہ بھی فراہم کیا جائے گا، تاکہ وہ مالی رکاوٹوں کے بغیر اپنی تعلیم یا تحقیق جاری رکھ سکیں۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا ہے کہ پاکستان میں باصلاحیت نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں، اور یہ پروگرام انہیں بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے درخواست گزاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی درخواستیں خود تیار کریں، کیونکہ مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ جوابات جمع کرانے والے امیدوار نااہل قرار دیے جا سکتے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ مکمل فنڈڈ پروگرام نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پیشہ ورانہ روابط استوار کرنے، نئی مہارتیں حاصل کرنے اور مستقبل میں بہتر کیریئر کی بنیاد رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان سے چیوننگ پروگرام کے ہزاروں سابق اسکالرز اس وقت سرکاری اداروں، جامعات، میڈیا، نجی شعبے اور سول سوسائٹی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، جو ان پروگراموں کی افادیت اور کامیابی کی عکاسی کرتے ہیں۔



















































