اسلام آباد (نیوز ڈیسک): عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ روز کی نمایاں کمی کے بعد دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
تازہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ اور امریکی خام تیل دونوں کے نرخ اوپر چلے گئے ہیں، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک بار پھر سرگرمی بڑھ گئی ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 85.13 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 1.24 فیصد مہنگا ہو کر 81.33 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہونے لگا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی طلب و رسد میں تبدیلی، سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور بین الاقوامی سیاسی صورتحال میں آنے والی پیش رفت نے تیل کی قیمتوں کو دوبارہ سہارا دیا ہے۔ ان کے مطابق توانائی کی عالمی منڈی میں معمولی تبدیلی بھی قیمتوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کرنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس دوران برینٹ خام تیل تقریباً 4.76 ڈالر سستا ہو کر 83.16 ڈالر فی بیرل تک گر گیا تھا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 5.21 ڈالر کی کمی کے بعد 79.45 ڈالر فی بیرل پر آ گیا تھا۔
تاہم اگلے ہی روز عالمی مارکیٹ میں خریداری کے رجحان میں اضافے کے باعث تیل کی قیمتیں دوبارہ اوپر چلی گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سیاسی اور معاشی حالات میں تبدیلیاں جاری رہیں تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوں گے۔



















































