اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات، مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی۔ مئی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ برینٹ کروڈ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچا ہے، جس نے عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خطے میں ممکنہ جنگ کے پھیلاؤ اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشے کے باعث بڑے پیمانے پر خریداری کی، جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں ایک ہی روز میں چھ فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
قیمتوں میں حالیہ تیزی کی ایک اہم وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں تجارتی اور آئل ٹینکرز پر کیے جانے والے حملے قرار دیے جا رہے ہیں۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شامل ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ان کارروائیوں کا ذمہ دار ایران کو بھی سمجھتا ہے، کیونکہ حوثیوں کو تہران کی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو امریکا حوثیوں کے ساتھ ایران کے خلاف بھی سخت اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی، ٹرانسپورٹ اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند سطح پر جا سکتی ہیں اور توانائی کی سپلائی بھی شدید متاثر ہونے کا امکان ہے۔۔



















































