اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ پیش گوئی میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں مالی سال 2026-27 کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح حکومت کے مقررہ ہدف سے کچھ زیادہ رہ سکتی ہے۔
ادارے کے اندازے کے مطابق رواں مالی سال میں اوسط افراطِ زر 8.4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے بجٹ میں اسے 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس طرح آئی ایم ایف کی پیش گوئی سرکاری تخمینے سے قدرے بلند ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آنے والے برسوں میں مہنگائی میں بتدریج کمی متوقع ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2027-28 میں اوسط افراطِ زر 6.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ 2028-29 میں یہ 6.5 فیصد تک آ سکتی ہے۔ اسی طرح 2029-30 اور 2030-31 کے دوران بھی مہنگائی کی اوسط شرح تقریباً 6.5 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ معاشی رجحانات برقرار رہے تو آئندہ پانچ برس تک پاکستان میں مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں رہنے کا امکان ہے، جو ملکی معیشت کے لیے نسبتاً مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال 2025-26 میں اوسط مہنگائی 7.05 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ 2024-25 میں یہ 4.49 فیصد رہی تھی۔ اس سے قبل 2023-24 میں مہنگائی کی اوسط شرح 23.4 فیصد اور 2022-23 میں 29.2 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔



















































