منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں گاڑیوں کی امپورٹ کے لیے سخت ترین طریقہ، نان فائلرز کے لئے اہم خبر

datetime 24  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈٰیسک) حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے International Monetary Fund

کی تجاویز کے پیش نظر یکم جولائی سے گاڑیوں کی درآمد کے قواعد مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزارتِ صنعت و پیداوار نے ایک نیا فریم ورک تیار کیا ہے، جس کے تحت اب عام افراد یا غیر رجسٹرڈ ادارے بیرونِ ملک سے گاڑیاں نہیں منگوا سکیں گے۔ یہ سہولت صرف اُن کمپنیوں کو حاصل ہوگی جو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت رجسٹرڈ ہوں اور فعال این ٹی این رکھتی ہوں۔نئی پالیسی کے مطابق ایسی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت نہیں ہوگی جن کے لیے پاکستان میں بعد از فروخت سروس کا باقاعدہ نظام موجود نہ ہو۔ درآمد کنندگان کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے پاس اصل اسپیئر پارٹس، تربیت یافتہ عملہ اور جدید تشخیصی (ڈائیگناسٹک) سہولیات دستیاب ہیں تاکہ گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھال ممکن ہو سکے۔مزید یہ کہ صرف وہی گاڑیاں درآمد کی جا سکیں گی جو عالمی حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات پر پورا اترتی ہوں۔

اس مقصد کے لیے پہلے سے کوالٹی اور ماحولیاتی سرٹیفکیٹ جمع کرانا لازمی ہوگا، جبکہ پاکستان پہنچنے کے بعد فٹنس ٹیسٹ بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔استعمال شدہ (پرانی) گاڑیوں کے معاملے میں امپورٹرز کو انجن، چیسز اور دیگر شناختی تفصیلات کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ فراہم کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی ایسے درآمد کنندگان کے لیے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ میں رجسٹریشن بھی لازم ہوگی۔حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد غیر معیاری گاڑیوں کی درآمد روکنا، صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور ٹیکس نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پالیسی سے مقامی آٹو انڈسٹری کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، تاہم درآمدی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…