منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی لوڈ شیڈنگ کیوں ہو رہی ہے اور کیا اندھیرے میں ڈوبا ہوا ماحول ایک بار پھر واپس آ گیا ہے؟

datetime 16  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ملک ایک بار پھر 2011 کی صورتحال کی طرف لوٹ رہا ہو،

جب بار بار بجلی کی بندش معمول بن گئی تھی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی گھنٹوں کے وقفے سے بجلی غائب ہو رہی ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دیگر علاقوں میں حالات کس قدر سنگین ہوں گے۔ شہری سوشل میڈیا پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ملک دوبارہ اندھیروں کے دور میں داخل ہو رہا ہے؟لوگ یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ جب ہوٹل اور مارکیٹیں رات کو جلد بند ہو جاتی ہیں تو پھر رات گئے تک ’پیک آورز‘ کا جواز کیا ہے۔ ایسے سوالات اور شکایات ان دنوں سوشل میڈیا پر عام ہو چکی ہیں، جس کی بڑی وجہ حالیہ لوڈشیڈنگ ہے۔پاور ڈویژن کے حکام کے مطابق اس وقت ملک میں بجلی کی طلب تقریباً 18 ہزار میگاواٹ ہے، جبکہ پیداوار صرف 13 ہزار 500 میگاواٹ کے قریب ہے، یوں تقریباً 4 ہزار 500 میگاواٹ کا شارٹ فال موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق اپریل میں پیدا ہونے والا بحران بڑی حد تک ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے سے جڑا ہے۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کی وجہ سے قطر سے آنے والی گیس کی ترسیل رک گئی، جبکہ ملک کے کئی پاور پلانٹس اسی گیس پر انحصار کرتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ متبادل طور پر ڈیزل سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، لیکن اس کی زیادہ لاگت کے باعث حکومت اس آپشن سے گریز کر رہی ہے کیونکہ اس سے بجلی مزید مہنگی ہو جائے گی۔مزید یہ کہ اس موسم میں ہائیڈرو پاور کی پیداوار بھی کم ہو جاتی ہے، جس سے مجموعی بجلی کی دستیابی متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ایل این جی کی فراہمی بحال نہ ہوئی اور درجہ حرارت میں اضافہ جاری رہا تو گرمیوں میں بجلی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت پیداوار اور طلب کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے اور اگر یہ فرق بڑھتا رہا تو لوڈشیڈنگ کے اوقات میں مزید اضافہ ناگزیر ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرکاری طور پر پیک آورز میں محدود لوڈشیڈنگ کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں کئی علاقوں میں اس سے کہیں زیادہ وقت کے لیے بجلی بند کی جا رہی ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کا بحران بتدریج شدت اختیار کر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں گرمی بڑھنے کے ساتھ بجلی کی طلب میں مزید اضافہ اس مسئلے کو اور سنگین بنا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…