منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے کیلئے نیا قانون نافذ

datetime 15  اپریل‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کرپٹو کمپنیوں کو بینک اکاؤنٹس کی اجازت دیدی۔حکومت نے کرپٹو کمپنیوں پر ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 نافذ کردیا۔

سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی سے لائسنس یافتہ کرپٹو کمپنیاں بینک اکاؤنٹس کھول سکتی ہیں، کرپٹو کمپنیاں بینکوں میں اب کلائنٹ منی اکاؤنٹس کے نام سے پہلی بار اکاؤنٹس آپریٹ کریں گی۔سٹیٹ بینک سرکلر میں بتایا گیا کہ کلائنٹ منی اکاؤنٹس میں پیسے جمع اور نکلوانے کی اجازت نہیں ہوگی، کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس میں بینک خود اپنیفنڈز یا صارفین کی رقم کو استعمال نہیں کریں گے جبکہ بینکوں میں کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس صرف پاکستانی روپے میں آن لائن ٹریڈ ہوں گے۔بینکنگ پالیسی اینڈ ریگولیشن سرکلر میں بتایا گیا کہ کرپٹو اکاؤنٹس صرف ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کیلئے ہوں گے قرض یا سکیورٹی کے طور پر استعمال نہیں کیا جائیگا، کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس پر کسی قسم کامنافع نہیں دیا جائے گا،

ملک بھر کے تمام بینک کرپٹو اکاؤنٹس کی چھان بین اور نگرانی سخت قواعد وضوابط کے تحت کریں گے جبکہ ملک کے تمام بینکوں کو رسک پروفائلنگ سسٹم اپڈیٹ کرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…