لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب کے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے خبردار کیا ہے کہ اگر عوام اور ادارے کفایت شعاری مہم میں حکومت کا ساتھ نہ دیں اور پیٹرول کے استعمال میں کمی نہ آئی تو حالات کے پیش نظر قیمت کو بڑھا کر 500 روپے فی لیٹر تک لے جانا پڑ سکتا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ایندھن کی بچت کے لیے تین روز تک بعض ادارے بند رکھنے کا اقدام کیا، تاہم اس کے باوجود پیٹرول کی کھپت کم ہونے کے بجائے 7 سے 10 فیصد تک بڑھ گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلسل بڑھتی ہوئی کھپت کے باعث قومی خزانے پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جسے کم کرنے کے لیے حکومت کو سخت فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کے استعمال میں کمی کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔
صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت پیٹرول پر انحصار کم کرنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے جا رہی ہے، تاکہ ایندھن کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے ریجنل چیئرمین ذکی اعجاز نے تجویز دی کہ الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے آئندہ پانچ برس تک بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں۔
تاجر برادری نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ کاروباری سرگرمیوں پر بار بار پابندیاں اور اوقات کار میں تبدیلی ٹیکس آمدن کو متاثر کر رہی ہے۔ اس پر وزیر خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت تاجروں کے تحفظات کا جائزہ لے گی، تاہم موجودہ حالات میں توانائی کی بچت کو ناگزیر قرار دیا۔



















































