منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے آئی ایم ایف سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا وعدہ کر لیا

datetime 2  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر بجٹ میں گنجائش نہ رہی تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب تیل، بجلی اور گیس کے نرخ بڑھنے کے باعث مہنگائی کی شرح گزشتہ ماہ بڑھ کر تقریباً 7.3 فیصد تک پہنچ گئی، جو ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ فی الحال پیٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی عارضی نوعیت کی ہے اور اسے برقرار رکھنے کا انحصار مالی وسائل کی دستیابی پر ہوگا۔ مزید یہ کہ ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے تقریباً 200 ارب روپے کی اضافی گنجائش پیدا کرنے کے لیے صوبوں سے مشاورت جاری ہے۔

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ بجٹ پر بوجھ کم رکھنے کے لیے پیٹرولیم قیمتوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ اس دوران اخراجات میں کمی کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں سرکاری گاڑیوں کے فیول الاونس میں کمی، غیر تنخواہی اخراجات میں 20 فیصد کٹوتی اور ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی کمی شامل ہے۔ ان اقدامات سے مجموعی طور پر 27 ارب روپے کی بچت حاصل کی گئی۔

ذرائع کے مطابق حکومت کے اندر یہ رائے بھی پائی جاتی ہے کہ طلب میں کمی لانے کے لیے قیمتوں میں مزید اضافہ ضروری ہو سکتا ہے، کیونکہ حالیہ اضافوں کے باوجود ایندھن کی کھپت میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی۔

آئی ایم ایف نے مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت مستحق خاندانوں کے وظیفے میں اضافہ کرنے کی شرط بھی عائد کی ہے۔ اس کے تحت جنوری 2027 سے سہ ماہی امداد کو 14,500 روپے سے بڑھا کر 19,500 روپے کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ درمیانے طبقے پر پڑنے والے بوجھ کو مکمل طور پر کم نہیں کر سکے گا۔

مزید برآں، بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ متوقع ہے، جو جون تک بڑھ کر تقریباً ایک کروڑ سے زائد ہو سکتی ہے۔ اسی طرح صحت، تعلیم اور غذائیت سے متعلق پروگراموں میں بھی نئے افراد کو شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ 1.2 ارب ڈالر کی قسط کے حصول کے لیے ہونے والے مذاکرات میں یہ شرائط طے پائیں، جبکہ ایف بی آر کی جانب سے عدالتی مقدمات کے ذریعے 322 ارب روپے کے اضافی ریونیو کے حصول کو بھی اس معاہدے سے مشروط کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…