منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پیٹرول کی قیمت : پاکستان میں بڑا اضافہ، پڑوسی ممالک میں کم کیوں؟ سوالات اٹھنے لگے

datetime 12  مارچ‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی)مشرق وسطی میں حالیہ جنگ کی صورتحال کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ کیا گیا

جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے معمولی تبدیلی کی۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد گزشتہ روز پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ کیا گیا تھا اور ایک ہی رات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 55 روپے فی لیٹر بڑھا دی گئی۔تاہم اگر خطے کے دیگر ممالک کا جائزہ لیا جائے تو وہاں اس نوعیت کا بڑا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔اس حوالے سے اگر بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی صورتحال موازنہ کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے۔بھارتی حکومت نے اس موقع پر فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا، بھارتی حکام کے مطابق جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچے گی تو اس کے بعد قیمتوں میں ردوبدل کیا جائے گا۔اسی طرح بنگلہ دیش میں پیٹرول کی قیمت میں صرف 5 ٹکا فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جبکہ سری لنکا میں قیمتوں میں 5 سری لنکن روپے فی لیٹر کا معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ دوسری جانب افغانستان میں پیٹرول کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان میں جب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تو اس وقت مارکیٹ میں موجود پیٹرول کا بڑا حصہ پرانے اسٹاک پر مشتمل تھا، جو پہلے کم قیمت پر خریدا گیا تھا۔

اسی وجہ سے عوام کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر خطے کے دیگر ممالک اپنی عوام کو ریلیف فراہم کرسکتے ہیں تو پاکستان میں اتنا بڑا اضافہ کیوں کیا گیا۔ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی چلانے کے اخراجات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات روزمرہ زندگی کے تقریبا ہر شعبے پر پڑتے ہیں۔پیٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، سبزی، آٹا، دودھ، کرایوں اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے جس سے مہنگائی کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑتا ہے۔اسی وجہ سے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد عوامی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور لوگ حکومت سے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر وضاحت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…