منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پیٹرول کے بعد 23 ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی کے بھی دو جہاز پاکستان پہنچ گئے

datetime 11  مارچ‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)پیٹرولیم مصنوعات کے بعد ہزاروں ٹن ایل پی جی گیس کے دو بحری جہاز پورٹ قاسم بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگئے جبکہ مزید 2 جہاز عید الفطر سے پہلے آنے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق ملک میں مائع پیٹرولیم گیس کے وافر ذخائر دستیاب ہیں، پورٹ قاسم کی بندرگاہ پر اریس نامی بحری جہاز 11 ہزار میٹرک ٹن جبکہ اٹلانٹک نامی جہاز 12 ہزار میٹرک ٹن گیس لے پر پہنچا اور لنگر انداز ہوگیا۔اس کے علاوہ ULLSWATER نامی بحری جہاز کے ذریعے 3700ٹن اور MD23 نامی بحری جہاز کے ذریعے 3500ٹن مزید دو ایل پی جی کنسائمنٹس عیدالفطر سے قبل پاکستان پہنچ جائیں گے۔یہ بات ایل پی جی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے بتائی۔

انہوں نے بتایا کہ فی کلو گرام ایل پی جی کی مقررہ سرکاری قیمت اگرچہ 225 روپے ہے لیکن گیس مافیا امریکا ایران جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی بحران اور خام تیل کی عالمی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو جواز بناکر 350روپے سے 450روپے فی کلوگرام کے حساب سے ایل پی جی فروخت کررہے ہیں، جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔عرفان کھوکھر نے بتایا کہ امریکا ایران جنگ سے مشرق وسطی کی غیر یقینی صورتحال سے عالمی مارکیٹ میں فی ٹن ایل پی جی کی قیمت میں 200ڈالر کا اضافہ ہوچکا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے شپنگ لائنز کے فریٹ بھی بڑھ گئے ہیں، ملک میں ایل پی جی کے وافر ذخائر موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ گیس مافیا منفی افواہیں پھیلاکر صارفین کو گھبراہٹ میں وسیع پیمانے پر ایل پی جی کی خریداری کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی سے متعلق ملنے والے اشاروں اور مزید ایل پی جی کے کنسائمنٹس کی آمد سے آئندہ چند دنوں میں ایل پی جی کی قیمت معمول پر آجائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…