اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب نے راجن پور میں جدید الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔
اس موقع پر انہوں نے غریب اور نادار افراد کے لیے 3 سے 5 ایکڑ سرکاری زرعی زمین فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ راجن پور کی ترقی کا سفر شروع ہو چکا ہے اور اب اس پسماندہ علاقے میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دل میں ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ راجن پور کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں کیونکہ یہ علاقہ نواز شریف اور مریم نواز کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پسماندہ اضلاع کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ ترقی صرف لاہور تک محدود رہی۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ راجن پور کئی دہائیوں سے نظرانداز رہا مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہی الیکٹرک بسیں جو لاہور کی سڑکوں پر چل رہی ہیں، اب راجن پور میں بھی عوام کی خدمت کریں گی۔ پنجاب کے دور دراز اضلاع میں بھی جدید ٹرانسپورٹ سہولت متعارف کرائی جا رہی ہے اور پورے صوبے میں الیکٹرک بسوں کا نیٹ ورک پھیلایا جا رہا ہے۔ بسوں کے معیار اور کرایوں میں عوام کو بھرپور ریلیف دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ راجن پور کے لیے 15 الیکٹرک بسیں فراہم کی گئی ہیں اور کسی بھی ضلع کو ترقی سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جو لوگ جنوبی پنجاب صوبے کے نعرے لگاتے رہے، وہ عملی طور پر کچھ نہ کر سکے، جبکہ اب راجن پور کو لاہور اور اسلام آباد جیسی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ پنجاب میں مزید 1500 الیکٹرک بسیں شامل کی جا رہی ہیں اور ایک سال کے اندر صوبے کی ہر تحصیل میں گرین بس سروس شروع ہو جائے گی۔ طلبہ اور شہریوں کے لیے سستی اور معیاری سفری سہولت کا آغاز ہو چکا ہے، جس کا کرایہ صرف 20 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں کو بلاسود قرضے دیے جا رہے ہیں۔تقریب کے دوران وزیراعلیٰ نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ حکومت کو جعلی کہتے ہیں، انہوں نے اپنے صوبوں کے لیے کیا کیا؟ انہوں نے خیبرپختونخوا کی حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہاں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور غریب لوگ صرف سستی روٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔آخر میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ بھاٹی گیٹ واقعے پر وہ خود بے چین تھیں اور متعلقہ حکام کو بلا کر واضح ہدایات دیں کہ جو افسر کام نہیں کرنا چاہتے وہ خود علیحدہ ہو جائیں، کیونکہ عوامی خدمت میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔



















































