اسلام آباد (نیوز ڈیسک)چیئرمین جیولرز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن محمد ارشد کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں فی اونس سونا تقریباً دو ہزار ڈالر مہنگا ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق قیمتوں میں اس بے مثال اضافے نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سونے کے زیورات کی خرید و فروخت کو شدید متاثر کیا ہے۔ایک انٹرویو کے دوران محمد ارشد نے بتایا کہ سونے کی قیمت میں تیزی کی ایک بڑی وجہ چین اور دیگر ممالک کی جانب سے بڑے پیمانے پر سونے کی خریداری ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی معیشت میں استحکام آتا ہے، شرح سود بلند رہتی ہے اور امریکی ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ سونے کی قیمتوں میں تیزی کی رفتار کچھ حد تک کم ہو جائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک سونے کی قیمت میں کبھی نمایاں کمی نہیں دیکھی گئی، اور توقع ہے کہ نئے سال 2026 کے دوران بھی سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ محمد ارشد کے مطابق نہ صرف سونا بلکہ ملکی سطح پر چاندی کی مارکیٹ کا مستقبل بھی روشن نظر آ رہا ہے۔















































