منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

روزگار کیلیے برطانیہ جانے والے غیرملکیوں کیلیے اہم خبر

datetime 17  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈ یسک)برطانیہ میں بے روزگاری کی صورتِ حال مزید خراب ہوگئی ہے اور بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 5.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔قومی ادارۂ شماریات (او این ایس) کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح اکتوبر تک کے تین ماہ کا احاطہ کرتی ہے۔ اس سے قبل والی سہ ماہی میں بے روزگاری 5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ او این ایس کے مطابق جنوری 2021 کے بعد یہ سب سے زیادہ شرح ہے، اور اگر وبا کے دور کو الگ کر دیا جائے تو بھی یہ سطح 2016 کے اوائل کے بعد سب سے زیادہ ہے۔معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بے روزگاری میں اس مسلسل اضافے سے امکان ہے کہ بینک آف انگلینڈ جلد ہی شرحِ سود میں کمی کی طرف جائے گا۔

ادارۂ شماریات نے بتایا کہ لیبر مارکیٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اکتوبر ختم ہونے والی سہ ماہی میں تنخواہوں میں مجموعی اضافہ 4.6 فیصد رہا۔ نجی شعبے میں تنخواہوں کا اضافہ 4.2 فیصد سے کم ہو کر 3.9 فیصد رہ گیا جبکہ سرکاری شعبے میں اجرتوں میں اضافہ 6.6 سے بڑھ کر 7.6 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔تازہ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بونس کو نکال کر دیکھا جائے تو تنخواہوں میں اضافہ اب بھی مہنگائی کی شرح سے کچھ زیادہ ہے، لیکن بونس کے بغیر اجرتوں کا اضافہ ستمبر کے 4.7 فیصد کے مقابلے میں اکتوبر میں کم ہو کر 4.6 فیصد رہ گیا، جو 2022 کے آغاز کے بعد سب سے کم سطح ہے۔

دوسری جانب بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مختلف ادارے ملازمین کی چھانٹی کر رہے ہیں۔ بے روزگاری الاؤنس لینے والوں کی تعداد بڑھ کر 16 لاکھ 96 ہزار ہو گئی ہے جبکہ اگست میں یہ تعداد 16 لاکھ 86 ہزار تھی۔واضح رہے کہ خبر رساں ادارے روئٹرز کے سروے میں معاشی ماہرین نے اکتوبر میں بے روزگاری کی شرح 5.1 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی تھی، جب کہ ستمبر میں یہ شرح 5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…