پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

سرکاری حکام نے غیر رجسٹرڈ وی پی این کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے

datetime 1  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)سرکاری حکام نے غیر رجسٹرڈ وی پی این کو ملکی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ وہ ہرگز غیر رجسٹرڈ وی پی این استعمال نہ کریں۔نجی ٹی وی کے مطابق سرکاری حکام نے بتایا کہ غیر رجسٹرڈ وی پی این پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں، دہشت گرد، غیر ملکی ایجنٹ، جرائم پیشہ افراد اور شدت پسند اپنے وجود کو چھپانے کے لیے غیر قانونی وی پی این استعمال کر رہے ہیں، ان غیر رجسٹرڈ وی پی این کے ذریعے حملوں کی منصوبہ بندی، افواہیں، پروپیگنڈا اور غیر قانونی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔حکام کے مطابق ایسی سرگرمیوں سے پاکستان کا ہر شہری غیر محفوظ ہو جاتا ہے، اپنے ملک اور اپنی حفاظت کے لیے غیر رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال ہرگز نہ کریں، صرف پی ٹی اے سے منظور شدہ اور رجسٹرڈ وی پی این استعمال کریں۔آئی ٹی ماہرین نے بتایا کہ غیر رجسٹرڈ مفت وی پی این دراصل آپ کا ڈیٹا چرا رہے ہیں، زیادہ تر مفت وی پی این محفوظ نہیں ہوتے، وہ آپ کو ہی پروڈکٹ بنا کر بیچتے ہیں، بہت سے غیر رجسٹرڈ وی پی این ہیکرز، غیر ملکی اداروں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے کنٹرول میں ہوتے ہیں، آپ کے یوزرنیم، پاس ورڈ، بینک کی تفصیلات اور ذاتی معلومات لاگ کی جا رہی ہیں، یہ مفت سروس دراصل آپ کی پرائیویسی کی قیمت پر چلتی ہے۔آئی ٹی ماہرین کے مطابق غیر رجسٹرڈ وی پی این خاموش چور ہیں جو آپ کی شناخت چرا رہے ہیں، ہمیشہ منظور شدہ اور لائسنس یافتہ وی پی این استعمال کریں۔

سرکاری حکام نے کہاکہ غیر قانونی وی پی این پورے ملک کے لیے مالی نقصان کا باعث بن رہے ہیں، وی پی این کے ذریعے قانونی گیٹ ویز بائی پاس ہو رہے ہیں، اربوں روپے کے ٹیکس اور فیس بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں، قومی خزانے کو شدید نقصان، عوامی سہولتوں کے لیے پیسہ کم پڑ رہا ہے۔آئی ٹی ماہرین کے مطابق غیر قانونی وی پی این سے انٹرنیٹ پر بوجھ بڑھ رہا ہے، انٹرنیٹ کی رفتار سست، گھریلو صارف اور کاروبار دونوں متاثر ہوتے ہیں، کچھ لوگ تیز چلنے کے لیے وی پی این لگاتے ہیں، پورا ملک سست ہو جاتا ہے، غیر رجسٹرڈ وی پی این نہ صرف آپ کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی، قانونی وی پی این استعمال کریں، محفوظ رہیں اور ملک کو محفوظ بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…