پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

جننگ فیکٹریوں میں قابل فروخت روئی کے وسیع ذخائر دستیاب

datetime 20  جنوری‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)کاٹن ایئر 2024-25 میں مقامی کپاس کی پیداوار میں غیر معمولی کمی کے باوجود جننگ فیکٹریوں میں قابل فروخت روئی کے وسیع ذخائر دستیاب ہیں، جس سے مقامی جننگ سیکٹر مایوسی دوچار ہوگئے ہیں.جننگ انڈسٹری نے موجودہ حالات کے تناظر میں مقامی طور پر پیدا ہونے والی روئی کے استعمال کے فروغ اور کپاس کی پیداوار بڑھانے سے متعلق پالیسی سازوں سے ہنگامی بنیادوں پر حکمت عملی مرتب کرنے کا مطالبہ کردیا ہے تاکہ کھپت بڑھنے کے نتیجے میں کسانوں کی فی ایکڑ آمدنی بڑھ سکے اور مستقبل میں کپاس کی کاشت میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوسکے.

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کپاس کی مجموعی قومی پیداوار کے بارے میں جاری ہونے والے اعدادو شمار کے مطابق ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 15جنوری 2025 تک مجموعی طور پر صرف 54لاکھ 90ہزار روئی کی گانٹھوں کے مساوی پھٹی کی جننگ فیکٹریوں میں ترسیل ہوئی ہے جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 34 فیصد کم ریکارڈ کی گئی ہے.رپورٹ کے مطابق زیرتبصرہ مدت کے دوران پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں 35 فیصد جبکہ سندھ میں 32 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے.

انھوں نے بتایا کہ اندرون ملک روئی کی خریداری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جارہا ہے جس کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے رواں سال بیرون ملک سے ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ روئی اور سوتی دھاگے کی درآمدات کی گئی ہے اور اب اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ ٹیکسٹائل ملیں ای ایف ایس اسکیم کے تحت بیرون ملک سے بڑی مقدار میں کپڑے کی درآمدات بھی شروع کررہی ہیں جس سے مقامی طور پر پیدا ہونے والی روئی اور سوتی دھاگے کی فروخت مزید متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…