اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

مالی سال کے پہلے 5 ماہ حکومت نے 2.6 ارب ڈالر قرض لیا

datetime 24  دسمبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران حکومت نے مختلف فنانسنگ ذرائع سے 2.6 ارب ڈالر قرض لیا۔دستاویز کے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 9 ارب ڈالر کے ٹائم ڈپازٹس کا بجٹ مختص کیا۔ رواں سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران مختلف فنانسنگ ذرائع سے 2.6 ارب ڈالر قرض لیا۔ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 4.2 ارب ڈالر قرض لیا گیا تھا۔ 2.6 ارب ڈالر قرض میں آئی ایم ایف سے موصول ہونے والی ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط شامل نہیں۔

دستاویز کے مطابق 5 ارب ڈالر سعودی عرب کی ٹائم ڈپازٹ اور 4 ارب ڈالر سیف چائنا ڈپازٹ شامل ہیں تاہم اس مد میں پہلے 5 ماہ میں کوئی رقم موصول نہیں ہوئی۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے امداد کا بھی کوئی ذکر نہیں۔ دسمبر میں سعودی عرب نے پاکستان کے پاس رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں مزید ایک سال کی توسیع کی۔حکومت نے مالی سال 25-2024 کے لیے مختلف فنانسنگ ذرائع سے 19 ارب ڈالر کا بجٹ مختص کیا جس میں 19 ارب ڈالر کے قرضے اور 176.29 ملین ڈالر کی گرانٹ شامل تھی۔ اس میں آئی ایم ایف کی جانب سے کوئی رقم شامل نہیں۔

حکومت نے مالی سال 25-2024 کے لیے غیر ملکی کمرشل بینکوں سے 3.7 ارب ڈالر کا بجٹ مختص کیا تھا۔دستاویز کے مطابق پاکستان کو نومبر میں مختلف ذرائع سے 944 ملین ڈالر موصول ہوئے۔جس کی بنیادی وجہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے موصول ہونے والے 594.78 ملین ڈالر ہیں۔ رواں مالی سال 25-2024 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کی مد میں 734.90 ملین ڈالر موصول ہوئے جن میں نومبر میں 192.75 ملین ڈالر شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…