جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی جلد بحالی کی امیدیں کم ہیں،ماہرین

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)پاکستان میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر مشکل حالات سے گزر رہا ہے، منسلک لوگ سیکٹر کی مستقبل قریب میں بحالی سے متعلق مایوسی کا شکار ہیں۔ایک ریئلٹر کے مطابق کئی سالوں تک تیزی میں رہنے کے بعد2024 میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر جمود کا شکار رہا ہے، تاہم رواں سال قیمتوں میں کوئی بڑی کمی نہیں دیکھی گئی اور ایسے لوگ جن کو واقعی گھروں کی ضرورت تھی، سیکٹر کی لائف لائن چلاتے رہے۔مارکیٹ کے اسٹیک ہولڈز کے مطابق کراچی کے پلاٹس کی قیمت 25 ملین سے 100 ملین تک ہے، جبکہ ڈی ایچ اے لاہور قیمتیں مستحکم ہیں، ایک کنال کا پلاٹ 20 ملین سے 35 ملین تک کا ہے، جبکہ اسلام آباد کی مارکیٹ پریمیم ہے، جس میں ایک کنال کی قیمت 30 ملین سے 50 ملین تک ہے۔

ایک اور ریئلٹر شیخ نے کہا کہ لاہور اور اسلام آباد میں گزشتہ سالوں کے دوران قیمتیں مستحکم رہی ہیں، جبکہ کراچی میں اب بھی اتار چڑھائو جاری ہے، ملکی معاشی بدحالی سے یہ سیکٹر بھی متاثر ہوا ہے، امید ہے کہ معاشی حالات بہتر ہونے پر اس سیکٹر کی حالت بھی بہتر ہوگی۔یو اے ای بیسڈ ریئلٹر احمد رضا نے بتایا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی تیزی میں اوورسیز پاکستانیوں کا بڑا کردار ہے، جن کی سرمایہ کاری کی وجہ سے مارکیٹ تیز ہوئی اور مقامی خریدار پیچھے رہ گئے، شہر کے نمایاں علاقوں میں قیمتیں 30 سے 40 فیصد تک بڑھ گئیں، تاہم کچھ عرصے سے سیکٹر بری طرح متاثر ہوا ہے اور اب بلڈرز متوسط طبقے کو اٹریکٹ کرنے کیلیے منصوبے بنانے پر غور کر رہے ہیں۔

اگر حکومت ٹیکس کم کردے تو ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں دوبارہ تیزی آسکتی ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ درمیانے درجے کی ہائوسنگ سوسائٹیاں متعارف ہونے سے درمیانی ریکوری ہوسکتی ہے لیکن لگژری ہائوسنگ سوسائٹیاں ملکی معاشی حالات سے مشروط ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…