منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

پی آئی اے کے خریداروں کا بڑی حکومتی شرائط ماننے سے انکار

datetime 7  ستمبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)پی آئی اے کی خریداری کے خواہشمندوں نے حکومت کی جانب سے عائد کی گئی بڑی شرائط ماننے سے انکار کردیا۔بولی دہندگان پی آئی اے میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری، فلیٹ سائز میں اضافے اور مخصوص روٹس پر آپریشنز جاری رکھنے پر آمادہ نہیں ہیں، ذرائع کے مطابق ممکنہ خریداروں نے فروخت سے حاصل ہونے والی پوری رقم حکومت کو دینے کے بجائے دوبارہ ایئرلائن میں سرمایہ کاری کیلیے رکھنے کی تجویز دی ہے جبکہ بڈرز ان ملازمین کیلیے نئے اپائنٹمنٹ لیٹرز جاری کرنے چاہتے ہیں، جن کو وہ نوکری پر رکھنے کا فیصلہ کریں گے، جبکہ باقی ماندہ ملازمین کو ہولڈنگ کمپنی بھیجنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اب یہ معاملہ اعلی سطح پر ڈسکس ہورہا ہے، اگر حکومت یہ مطالبات مان لیتی ہے، تو توازن پی آئی اے کے خریدار وں کے حق میں چلا جائے گا، حکومت کی جانب سے شارٹ لسٹ کیے گئے 6 بڈرز نے مجوزہ شیئرہولڈرز ایگریمنٹ اور سیل پرچیز ایگریمنٹ پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے، کامیاب خریدار اور حکومت کے درمیان پرچیز ایگریمنٹ، سبسکرپشن ایگریمنٹ اور شیئرہولڈرز ایگریمنٹ پر دستخط کیے جائیں گے، واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے فلائی جناح، ایئربلو، عارف حبیب کارپوریشن، بلیو ورلڈ سٹی، پاک ایتھانول پرائیویٹ کنسورشیئم اور وائی بی ہولڈنگز کنسورشیئم کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دو پری کوالیفائیڈ پارٹیوں نے بولی کی پوری رقم اپنے پاس رکھنے یا حکومت کو دینے کے بجائے پی آئی اے میں انویسٹ کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ ایک مقامی ایئرلائن نے پی آئی اے کے 100 فیصد حصص کے حصول میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور وہ حکومت کو رقم ادا کرنا چاہتی ہے، جبکہ حکومت نے بڈ پرائس کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی ہے، اس طرح حکومت کچھ رقم اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے اور کچھ رقم پی آئی اے میں انویسٹ کرنے کو تیار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…