جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پی آئی اے کے خریداروں کا بڑی حکومتی شرائط ماننے سے انکار

datetime 7  ستمبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)پی آئی اے کی خریداری کے خواہشمندوں نے حکومت کی جانب سے عائد کی گئی بڑی شرائط ماننے سے انکار کردیا۔بولی دہندگان پی آئی اے میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری، فلیٹ سائز میں اضافے اور مخصوص روٹس پر آپریشنز جاری رکھنے پر آمادہ نہیں ہیں، ذرائع کے مطابق ممکنہ خریداروں نے فروخت سے حاصل ہونے والی پوری رقم حکومت کو دینے کے بجائے دوبارہ ایئرلائن میں سرمایہ کاری کیلیے رکھنے کی تجویز دی ہے جبکہ بڈرز ان ملازمین کیلیے نئے اپائنٹمنٹ لیٹرز جاری کرنے چاہتے ہیں، جن کو وہ نوکری پر رکھنے کا فیصلہ کریں گے، جبکہ باقی ماندہ ملازمین کو ہولڈنگ کمپنی بھیجنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اب یہ معاملہ اعلی سطح پر ڈسکس ہورہا ہے، اگر حکومت یہ مطالبات مان لیتی ہے، تو توازن پی آئی اے کے خریدار وں کے حق میں چلا جائے گا، حکومت کی جانب سے شارٹ لسٹ کیے گئے 6 بڈرز نے مجوزہ شیئرہولڈرز ایگریمنٹ اور سیل پرچیز ایگریمنٹ پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے، کامیاب خریدار اور حکومت کے درمیان پرچیز ایگریمنٹ، سبسکرپشن ایگریمنٹ اور شیئرہولڈرز ایگریمنٹ پر دستخط کیے جائیں گے، واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے فلائی جناح، ایئربلو، عارف حبیب کارپوریشن، بلیو ورلڈ سٹی، پاک ایتھانول پرائیویٹ کنسورشیئم اور وائی بی ہولڈنگز کنسورشیئم کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دو پری کوالیفائیڈ پارٹیوں نے بولی کی پوری رقم اپنے پاس رکھنے یا حکومت کو دینے کے بجائے پی آئی اے میں انویسٹ کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ ایک مقامی ایئرلائن نے پی آئی اے کے 100 فیصد حصص کے حصول میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور وہ حکومت کو رقم ادا کرنا چاہتی ہے، جبکہ حکومت نے بڈ پرائس کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی ہے، اس طرح حکومت کچھ رقم اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے اور کچھ رقم پی آئی اے میں انویسٹ کرنے کو تیار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…