اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی صارفین کو ستمبر میں 4 ارب 50 کروڑ کا ریلیف ملنے کا امکان

datetime 17  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)حکومتی ملکیتی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) نے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 31 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست دی ہے، جس سے صارفین کو تقریباً 4 ارب 50 کروڑ روپے کا ریلیف ملے گا، یہ پیسے رواں مالی سال کے بنیادی ٹیرف میں 20 فیصد اضافے کے ذریعے وصول کیے گئے تھے۔ میڈیارپورٹ کے مطابق پاور ڈویژن کے ماتحت ادارے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ریگولیٹر کے سامنے باضابطہ درخواست دائر کی ہے جس میں جولائی میں صارفین سے وصول کردہ 9.352 روپے فی یونٹ کے ریفرنس ٹیرف پر 31 پیسے فی یونٹ (کلو واٹ آور) کی کمی کی درخواست کی ہے۔کہا گیا ہے کہ فیول کاسٹ 9.038 روپے فی یونٹ رہی ہے لہذا اسے ستمبر کے بلوں میں صارفین کو واپس کیا جائے۔فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ میں تجویز کردہ کمی کی وجہ یکم جولائی سے نافذ ہونے والے سالانہ بنیادی ٹیرف میں 20 فیصد اضافہ ہے جس میں موجودہ مالی سال کے لیے ایندھن کی بْلند لاگت اور شرح تبادلہ کا تخمینہ لگایا گیا تھا، تاہم عالمی مارکیٹ میں نرخوں میں کمی کی وجہ سے فیول کاسٹ کم ہوئی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے درخواست پر 28 اگست کو عوامی سماعت طلب کرلی ہے۔جولائی میں حکام نے کہا تھا کہ 133.2 ارب روپے (8.95 روپے فی یونٹ) کے ایندھن کے اخراجات سے تقریبا 14,880 گیگا واٹ فی گھنٹہ (گیگا واٹ پر آور) بجلی پیدا کی گئی ، جس میں سے 14،411 گیگاواٹ فی گھنٹہ بجلی ڈسکوز کو 130.2 ارب روپے (9.03142 روپے فی یونٹ) کی لاگت سے فراہم کی گئی ہے۔جولائی میں بجلی کی پیداوار میں ہائیڈرو پاور کا 36 فیصد حصہ شامل تھا جس کی کوئی فیول کاسٹ نہیں ہے، ایل این جی سے بجلی کی پیداوار 20 فیصد رہی جبکہ نیوکلیئر پاور سے 13.36 فیصد بجلی پیدا کی گئی، مقامی کوئلے سے 10 فیصد اور مقامی گیس سے 7.93 فیصد بجلی پیدا کی گئی، درا?مد شدہ کوئلے نے پیداوار میں 7.64 فیصد حصہ ڈالا۔

جولائی میں ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی 24.88 روپے یونٹ رہی جو کہ جون میں 26.32 روپے تھی،جبکہ مقامی گیس سے بننے والی بجلی کی فیول کاسٹ 13.79 روپے فی یونٹ رہی۔دوسری طرف، مقامی کوئلے سے بننے والی بجلی کی قیمت 11.33 روپے فی یونٹ رہی جبکہ درآمد شدہ کوئلے کی پیداواری صلاحیت 16.20 روپے فی یونٹ تھی۔قابل تجدید توانائی کے تین ذرائع، ہوا، بگاس اور شمسی توانائی نے جولائی میں گرڈ میں مجموعی طور پر 4 فیصد حصہ ڈالا، اگرچہ ہوا اور شمسی توانائی کی کوئی فیول کاسٹ نہیں ہے لیکن بگاس کی پیداواری لاگت 6 روپے فی یونٹ پر برقرار رہی۔نیپرا کی منظوری کے بعد صارفین کے ستمبر کے بلوں میں ایف سی اے کے اضافے کو ایڈجسٹ کیا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…