بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے 45 دنوں میں 32 کھرب روپے کا قرضہ لے لیا

datetime 11  جولائی  2024 |

کراچی(این این آئی)حکومت نے 45 دنوں میں 32 کھرب روپے کا قرضہ لے لیا، اسٹیٹ بینک نے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیئے ہیں۔مرکزی بینک کے مطابق حکومت نے محصولات میں 30 فیصد اضافے کے باوجود مالی سال 2023-2024 کے آخری 45 دنوں (15مئی سے 28 جون)کے دوران شیڈول بینکوں سے 3231 ارب روپے(32کھرب روپے)قرض لیا۔اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے اس عرصے کے دوران یومیہ 71.8 ارب روپے کا قرضہ لے لیا، جو حکومت کے بڑے پیمانے پر اخراجات کی عکاسی کرتا ہے۔

مالی سال 2025 کے بجٹ میں، حکومت نے گزشتہ مالی سال کے مقابلے 40 فیصد زیادہ ریونیو حاصل کرنے کے لیے بھاری ٹیکسوں کا سہارا لیا ہے۔اگرچہ حکومت ریونیو بڑھانے کے لیے مزید ٹیکس لگانے کا اشارہ دے رہی ہے، لیکن قرض لینے سے بچنے کے لیے اخراجات کو روکنے کی کوشش بہت کم دکھائی دیتی ہے۔مالی سال 2024 کے دوران شیڈول بینکوں سے حکومت کا قرضہ 8564 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جو کہ مالی سال 2023 کے دوران لیے گئے 3716 ارب روپے سے دو گنا زیادہ ہے۔

مالی سال 2024 کے آخری 45 دنوں کا قرضہ، 32 کھرب روپے، اتفاق سے مالی سال 2023 کے پورے قرضے کے قریب ہے، یہ قرضے حیران کن لاگت پر لیے گئے کیونکہ تقریبا شرح سود 22 فیصد تک ہے۔اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے سال کے دوران گھریلو قرضوں کی خدمت کے لیے 65.5 کھرب روپے کا قرض لیا،حکومت نے مالی سال 2025 کے لیے 3.5 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا ہے، لیکن قرضوں کی فراہمی کی ذمہ داری، کم افراط زر کے باوجود بلند شرح سود اور نجی شعبے کی جانب سے اقتصادی سرگرمیوں میں کمی اقتصادی مینیجرز کے لیے ہدف تک پہنچنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…