اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کا ملک میں سولر پینلز کی تیاری شروع کرنے کا منصوبہ

datetime 29  اپریل‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)چین کے سرکاری اور نجی شعبے کے ساتھ ملکر حکومت پاکستان نے پاکستان میں سولر پینلز کی تیاری شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو سبز توانائی پیدا کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے،اس اقدام سے پاکستان کو 27 ارب ڈالر کے سالانہ درآمدی بل کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

گوادر پرو کے مطابق متبادل توانائی کے ترقیاتی بورڈ نے سولر پینلز اور اس سے منسلک آلات کی تیاری کی 10 سالہ پالیسی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ چین کی مدد سے سولر پینل کی تیاری 2030 تک پورے پاکستان میں تقریباً 9.7 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی کے پاور جنریشن سسٹمز کی تنصیب کے لیے حکومتی کوششوں میں معاون ثابت ہوگی۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت چین کے تعاون سے سولر پینلز کی تیاری شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،سولر پینلز پر ڈیوٹی کم کر دی گئی ہے، ہمیں بجلی چوری روکنی ہے، لائن لاسز بھی کم کرنا ہوں گے۔

واضح رہے کہ ملک میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی سولر پینلز کی طرف لوگوں کا رجحان کافی بڑھ رہا ہے۔ موسم گرما کی آمد کے ساتھ موجودہ صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت نے ملک میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے سولر پینلز پر درآمدی ڈیوٹی میں بھی کمی کر دی ہے۔گوادر پرو کے مطابق پاکستان کی عملی شمسی صلاحیت 4.713 کلوواٹ آور ہے اور ملک عالمی سطح پر 49 ویں نمبر پر ہے۔ یہ اعدادوشمار پاکستان میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے نظام کی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے اور سورج کی روشنی کو قابل استعمال توانائی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کو نمایاں کرتا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے پائیدار اور سبز توانائی کو فروغ دینے کے وڑن کے ساتھ شمسی توانائی کے اقدامات پر ایک ٹاسک فورس بھی تشکیل دی ہے۔ حکومت بجلی کی طویل بندش پر قابو پانے کے لیے ٹیکس میں چھوٹ اور صارفین کے لیے رعایتی قرضوں پر مشتمل ایک جامع شمسی توانائی پیکج پر کام کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…