ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، انڈیکس میں 355.19 پوائنٹس کا اضافہ

datetime 22  فروری‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کوتیزی کا رجحان رہا اور کے ایس ای-100 انڈیکس 355.19 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 61 ہزار 914.34 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔تفصیلات کے مطابق سرمایہ کاروں میں نئی مخلوط حکومت سے وابستہ توقعات، نئی حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) سے جاری پروگرام کی آخری قسط حاصل کرنے کے ساتھ 6 سے 7ارب ڈالر مالیت کے نئے قرض پروگرام میں شمولیت کے لیے تگ ودو کی امیدوں کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو بھی تیزی کا تسلسل برقرار رہا۔اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے سبب 53فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، حصص کی مالیت میں مزید 16ارب 23کروڑ 83 لاکھ8 ہزار 967روپے کا اضافہ ہوگیا۔

سرمایہ کاروں نے بتایا کہ نئی مجوزہ مخلوط حکومت چونکہ نگراں حکومت سے قبل بھی مختصر دورانیے کے لیے برسراقتدار رہی ہے لہذا وہ پہلے ہی معاشی بحران سے بخوبی طور پر آگاہ ہے۔متوقع نئی حکومت سے توقعات رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بار مخلوط حکومت کو 5سالہ مینڈیٹ حاصل ہے لہذا مجوزہ نئی مخلوط حکومت سے یہ بھی توقع کی جارہی ہے کہ وہ آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت یقینی بنانے اور معیشت کو درست سمت پر لے جانے کے لیے اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکے گی۔متوقع حکومت سے انھی توقعات کی بنا پر سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باوجود کاروبار کے آغاز سے ہی تیزی رہی لیکن وقفے وقفے سے پرافٹ ٹیکنگ کے سبب ایک موقع پر 99 پوائنٹس کی مندی بھی ہوئی۔

بعدازاں شعبہ جاتی بنیادوں پر خریداری میں تیزی سے مارکیٹ کا گراف بلندی کی جانب گامزن ہوا، جس سے ایک موقع پر 393 پوائنٹس کی تیزی بھی ہوئی تاہم اختتامی لمحات میں دوبارہ پرافٹ ٹیکنگ کی وجہ سے تیزی کی مذکورہ شرح میں قدرے کمی واقع ہوئی۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 355.19 پوائنٹس کے اضافے سے 61 ہزار 914.34 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا، کے ایس ای-30 انڈیکس 132.30 پوائنٹس کے اضافے سے 20 ہزار 850.78 پوائنٹس، کے ایم آئی-30 انڈیکس 844.48 پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 3 ہزار 509.06 پوائنٹس اور کے ایم آئی آل شئیر انڈیکس 130.65 پوائنٹس کے اضافے سے 29 ہزار 955.09 پوائنٹس پر بند ہوا۔

اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری حجم بدھ کے مقابلے میں 11فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر 32کروڑ 48لاکھ 30 ہزار 445 حصص کے سودے ہوئے اور کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 352 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا۔کاروبار کے دوران 185 کمپنیوں کے بھائو میں اضافہ، 143 کے دام میں کمی اور 24 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، ان میں سروس انڈسٹریز کے بھا 29.56 روپے سے بڑھ کر 657روپے اور سسٹمز لمیٹڈ کے بھائو 23.03روپے بڑھ کر 410.40 روپے ہوگئے۔دوسری جانب انڈس موٹرز کے بھائو 82.07روپے گھٹ کر 1466.01 روپے اور رئیلائنس کاٹن اسپننگ ملز کے بھائو 43.12 روپے کم ہو کر 531.88 روپے ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…