ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

عوام اور دکاندار 75روپے کے یادگاری نوٹ قبول کرنے سے خوفزدہ

datetime 22  اکتوبر‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)مرکزی بینک کی جانب سے پاکستان اور مرکزی بینک کی ڈائمنڈ جوبلی کے مختلف مواقع پر مختلف ڈیزائنوں کے حامل 75 روپے کے دو یادگاری کرنسی نوٹ جاری کیے گئے جو کہ ہر لحاظ سے بطور کرنسی استعمال کیے جانے کے قابل ہیں، لیکن عوام الناس میں اس حوالے سے کنفیوژن اور غلط فہمی پائی جاتی ہے اور اکثر دکاندار ان نوٹوں کو وصول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مرکزی بینک نے پہلا نوٹ ہرے رنگ میں 14اگست 2022 کو پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی پر جاری کیا تھا، جس پر قائد اعظم کے ساتھ سرسید احمد خان، فاطمہ جناح اورعلامہ اقبال کی تصاویر بھی چھاپی گئی تھیں۔دوسری بار نیلے رنگ والے75 روپے کے نوٹ مرکزی بینک کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر 4 جو لائی 2023 کو جاری کیے گئے تھے، جن پر صرف قائد اعظم کی تصویر چھاپی گئی تھی، محدود تعداد میں اور صرف ایک بار چھاپے جانے کی وجہ سے ان یادگاری نوٹوں کی وجہ سے عوام الناس میں غلط فہمی پھیل گئی اور دکانداروں نے ان نوٹوں کے لین دین سے انکار کر دیا۔اس حوالے سے مرکزی بینک کے ترجمان عابد قمر نے کہا کہ مرکزی بینک کا یہ نوٹ بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ نوٹ بطور کرنسی ہر طرح سے قانونی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہم عوام الناس اور تاجروں کے درمیان اس حوالے سے آگاہی پھیلا رہے ہیں۔

ایک سینیئر بینکار نے بتایاکہ یادگاری نوٹ بڑے پیمانے پر جاری کیے گئے تاکہ زیادہ لوگوں تک پہنچیں اور زیادہ لوگ ان نوٹوں کو حاصل کرکے یادگار منا سکیں۔اس حوالے سے دکانداروں نے بتایاکہ سپلائی چین میں کوئی بھی ان نوٹوں کو قبول نہیں کر رہا، جس کی وجہ سے ہم یہ نوٹ قبول نہیں کرتے۔سبزی اور پھل فروشوں نے بتایاکہ مارکیٹوں میں ان یادگاری نوٹوں کو ہول سیلر قبول نہیں کرتے جبکہ ایک ریڑھی بان نے کہاکہ کم تعداد میں نوٹوں کی چھپائی تنازع کی بڑی وجہ ہے، اگر یہ نوٹ بڑی تعداد میں چھاپے جائیں تو لوگوں میں ان کی قبولیت بڑھ جائے گی۔ایک اوردکاندار نے کہاکہ نوٹ کی قدر 75 روپے رکھنا بڑی وجہ ہے، اگر قدر 70 روپے رکھی جاتی تو بہتر رہتا۔

ایک شخص نے کہا کہ پولیس کو دکانداروں اور عوام کو یہ نوٹ قبول کرنے کے لیے حرکت میں آنا چاہیے۔کچھ دکانداروں نے بتایاکہ انھوں نے بینکوں اور پیٹرول پمپس کی جانب سے نوٹ وصول کرنے کی یقین دہانی کے بعد ان نوٹوں کو قبول کرنا شروع کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…