ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

تندور مالکان نے روٹی اور نان کی قیمتوں میں از خود اضافہ کر کے ایک اور مہنگائی کا بم گرا دیا

datetime 10  اکتوبر‬‮  2023 |

مکوآنہ (این این آئی)فیصل آباد شہر اور گردونواح میں تندور مالکان نے روٹی اور نان کی قیمتوں میں از خود اضافہ کر کے ایک اور مہنگائی کا بم گرا دیا ہے فیصل آباد کے تندوروں پر روٹی 20 روپے اور نان 30 روپے کا فروخت ہونے لگا میڈیا سروے کے مطابق تندور مالکان نے روٹی اور نان کی قیمتوں میں ازخود اضافہ کر دیا تحصیل انتظامیہ کی طرف سے خود ساختہ اضافہ نہ روکا جا سکا نان کی قیمت میں 5 سے 10 روپے اضافہ کر دیا گیا جبکہ روٹی کی قیمت میں 5 روپے ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے

ذرائع کے مطابق شہر کے ایک سو سے زائد تندوروں پر از خود نئی قیمتوں پر نان روٹی فروخت کی جا رہی ہے اندرون شہر میں روٹی 20 روپے اور نان 30 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے دیہاتی علاقوں میں بھی نان اور روٹی مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں واضح رہے کہ سرکاری سطح پر روٹی کی قیمت 15 روپے جبکہ نان کی قیمت 20 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ روٹی 5 روپے اضافہ کے ساتھ 20 روپے اور نان 10 روپے اضافہ کے ساتھ 30 روپے میں فروخت کیا جانے لگا دوکاندار کا کہنا ہے کہ فائن آٹے کے تھیلے کی قیمت زیادہ ہو گئی ہے ہم کس طرح مہنگا آٹا لیکر سستی روٹی بیچ سکتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…