ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر کی پیش قدمی جاری

datetime 1  اگست‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی) ڈالر کے انٹربینک ریٹ 287 روپے سے بھی تجاوز کرگئے جب کہ اوپن مارکیٹ ریٹ مستحکم رہے۔درآمدات کے لیے مرکزی بینک کی منظوری کے بغیر بینکوں کی صوابدید پر زرمبادلہ فراہم کرنے کی اجازت سے نئی درآمدی ایل سیز کھلنے کے دبا کے باعث منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں محدود اتار چڑھا کے بعد ڈالر کی پیش قدمی جاری رہی جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 287 روپے سے بھی تجاوز کرگئے تاہم اس کے برعکس اوپن مارکیٹ ریٹ مستحکم رہے۔

امارات اور سعودی عرب کی پاکستان میں دھات اور کان کنی کے شعبے میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی اور آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے، دوست ممالک کی پاکستان کے ساتھ ممکنہ تعاون جیسے عوامل کے سبب منگل کو کاروبار کے آغاز پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 8 پیسے کی کمی سے 286 روپے 37 پیسے پر بھی آگئی تھی۔

اس دوران درآمدی ایل سیز کی ڈیمانڈ بڑھنے سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ ایک موقع پر 1 روپے 55 پیسے کے اضافے سے 288 روپے کی سطح پر بھی آگئے تھی لیکن کاروبار کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 1 روپے 9 پیسے کے اضافے سے 287 روپے 54 پیسے پر بند ہوئے۔اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر ڈالر کی قدر 50 پیسے کی کمی سے 290.50 روپے پر آگئی تھی لیکن کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے اوپن ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 291 روپے کی سطح پر بند ہوئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کی مارکیٹوں میں شرح تبادلہ مارکیٹ میکنزم کے تحت رکھی گئی ہے جبکہ رواں سال درآمدات کی نمو بھی محدود رہے گی۔

ریگولیٹر نے شرح مبادلہ کے فرق کا فائدہ اٹھانے کے لیے مقررہ 120 یوم زرمبادلہ کی ترسیلات نہ لانے والے ایکسپورٹرز پر جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں اتار چڑھائو کا عمل مارکیٹ سینٹی منٹس پر چل رہا ہے، آئی ایم ایف کی شرائط پر شرح تبادلہ چونکہ مارکیٹ فورسز پر چھوڑی گئی ہے اس لیے ڈالر کی قدر بھی ڈیمانڈ میں کمی بیشی کے تناسب سے بڑھتی یا گھٹتی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…