ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

قائمہ کمیٹی اجلاس میں 500 ارب سے زائد کی بجلی چوری کا انکشاف

datetime 26  جولائی  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں گزشتہ 15 ماہ میں 500 ارب سے زائد کی بجلی چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں اجلاس میں ارکان قائمہ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی چوری کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا۔ارکان کمیٹی نے بتایا کہ اندازے کے مطابق ملک بھر میں 15 ماہ کے دوران 500 ارب روپے سے زائد کی بجلی چوری کی گئی ہے۔ارکان نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف ایکشن بھی نہ ہونے کے برابر ہے، پورے سال میں بجلی چوری سے متعلق 55 ہزار شکایات موصول ہوئی ہیں۔

ارکان کمیٹی نے کہا کہ 20 ہزار بجلی کی ایف آئی آر درج ہوئیں ،صرف 528 افراد کو گرفتار کیا گیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک میں تھوڑی سی بھی بارش ہو تو بجلی بند ہوجاتی ہے۔دوران اجلاس چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بجلی چوری کی وجہ سے گردشی قرض بڑھ رہا ہے۔وزارت توانائی کے حکام نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ نقصانات کو پورا کرنے کے لیے بجلی مہنگی کی جاتی ہے، بجلی چوروں کیخلاف ایکشن ڈسکوز کے متعلقہ بورڈ آف ڈائریکٹر کے زمرے میں آتا ہے۔حکام نے کہا کہ مقامی انتظامیہ کا تعاون نہ کرنا بھی بہت بڑا چیلنج ہے، ڈسکوز کی نجکاری یا صوبوں کے حوالے کرنے پر کام جاری ہے۔

وزارت توانائی کے حکام نے بتایا کہ مکمل فیڈرز کے بجائے صرف ٹرانسفارمر بند کرنے کے آپشن زیر غور ہیں۔حکام کے مطابق اسمارٹ میٹر لگانے پر کام شروع کر دیا ہے، آئیسکو نے کام کا آغاز بھی کردیا ہے۔رکن کمیٹی محمد سجاد نے کہا کہ تربیلا کے علاقے میں شدید لوڈشیڈنگ ہے، احتجاج کے باعث وہاں پیسکو کے ملازمین کو بھی گاڑی میں بند کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تربیلا ڈیم کے اردگرد 80 گائوں ہیں، ان لوگوں کو بجلی نہیں دے سکتے تو باقی سب کو کیا دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…