ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اسحاق ڈار کے آنے کا مطلب الیکشن ایک سال آگے ہوں گے

datetime 24  جولائی  2023 |

لاہور( این این آئی) سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نگران حکومت اور اس کے وزیراعظم کا فیصلہ اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا دکھائی دے رہا ہے ،سیاسی اندھے رشتے داروں میں ریوڑیاں بانٹنا چاہتے ہیں ،آئینی ترمیم کے بغیر نگران وزیراعظم کو الیکشن کروانے کے علاوہ کوئی اختیارات نہیں مل سکتے ،اسحاق ڈار کے آنے کا مطلب آئی ایم ایف ناراض ،ڈالر 300 کی حد پار ،الیکشن ایک سال آگے ہوں گے،الیکشن کی تاخیر معیشت کی تباہی اور غریب کا زندہ دفن ہونا ہے ۔

ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ (ن) لیگ اور پی پی پی یہ چاہتی ہے کہ نگران وزیراعظم ان کے جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی ہو ،لندن کے ڈاکٹر بھی بڑے با کمال ہیں وہ نواز شریف کو لندن سعودی عرب دبئی جانے کا مشورہ دیتے ہیں اورپاکستان جانے کی اجازت نہیں دیتے ،15 مہینے بھائی ویزراعظم رہا اور سفارتی پاسپورٹ نواز شریف کے ہاتھ میں رہا لیکن پاکستان آنے کی جرت نہیں ہوئی ،حکومت کے چہرے پر اڑی ہوئی ہوائیاں بتا رہی ہیں کہ ان کو عوام کا ردعمل بخوبی معلوم ہے ، جو قدم اٹھائیں گے الٹا ان کے گلے پڑے گا ۔

انہوںنے کہا کہ الیکشن میں تاخیر کرنے کے حربے استعمال کریں گے تو اپنا ہی مزید نقصان کریں گے ،سات دنوں بعد جب لوگوں کے گھروں میں بجلی کے بل آئیں گے تو لوگ جھولیاں اٹھا کے ان کے لئے دعا کریں گے ؟،بے شک سارے میڈیا پرقبضہ کرلیں صحافت کو ہتھکڑیاں پہنا دیں ،آٹاچینی کابھائواور بجلی کیبل کا بم ان کی سیاست کاقبرستان بنادے گا۔ انہوںنے کہا کہ کس کارکردگی پر سرکاری افسروں میں نئی گاڑیاں بانٹی جارہی ہیں ،ڈیفالٹ توپاکستان نے نہیں عوام نے ہونا تھا اور عوام ڈیفالٹ ہو چکی ہے ،حکمران بڑے شوق سے طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک ٹی وی پرچھائونی ڈال کر بیٹھے رہیں لیکن نہ ان کے چہرے کو پسند کیا جا رہا ہے نہ ان کی کوئی بات سن رہا ہے بلکہ یہ الیکٹرانک میڈیا کی ریٹنگ خراب کر رہے ہیں ، آخری 2 ہفتے پاکستان کی سیاست میں انتہائی اہم ہیں ،یہ عوام کو ریلیف کی بجائے مزید تکلیف دے کے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…