ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ملک کے تین بڑے ایئرپورٹس کو آیوٹ سورس کرنے کا فیصلہ

datetime 22  جولائی  2023 |

کراچی/اسلام آباد/لاہور(این این آئی)حکومت نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کو آوٹ سورس کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق حکومت نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی ایئر پورٹس کو آوٹ سورس کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ موجودہ حکومت کے خاتمے سے قبل ہی ایئرپورٹس کو آٹ سورس کرنے کے لئے ٹینڈر جاری کر دیا جائے گا،

یہ ٹینڈر بین الاقوامی اخبارات میں جاری کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں اسلام آباد ایئرپورٹ اور دوسرے مرحلے میں لاہور اور کراچی کو آٹ سورس کیا جائے گا، جبکہ اسکردو ایئرپورٹ کو بھی آٹ سورس کرنے پر غور کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ ایئرپورٹس کی سیکیورٹی اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کے شعبے سول ایوی ایشن کے پاس ہی رہیں گے۔ایوی ایشن حکام کے مطابق پاکستان کو ہوائی اڈوں سے سالانہ 30 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوتی ہے، جبکہ آٹ سورسنگ کرنے سے نہ صرف آمدن میں کئی گنا اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی کمپنیوں سے معاہدے ڈالرز میں طے کیے جائیں گے،

جس سے حکومت کو ملک میں ڈالرز کے ذخائر بڑھانے کا ایک ذریعہ ملے گا۔دوسری جانب بین الاقوامی کمپنیاں لانجز اور ٹرمنلز میں بین الاقوامی برانڈز، ریستوران اور دیگر وہ تمام سہولیات فراہم کریں گی جو بین الاقوامی سطح پر ہوائی اڈوں پر مسافروں کو دی جاتی ہیں۔مجوزہ فریم ورک کے تحت ایئر پورٹ ٹرمینل سروسز، پارکنگ، گرانڈ ہینڈلنگ، کارگو سروسز اور صفائی کے شعبوں کو آٹ سورس کیا جائے گا، جبکہ سکیورٹی اور ایئر ٹریفک کنٹرول جیسے شعبے سول ایوی ایشن ہی کے کنٹرول میں ہوں گے۔ایوی ایشن حکام کے مطابق وزیراعظم سے مجوزہ فریم ورک کی منظوری لینے کے بعد بین الاقوامی کمپنیوں سے ٹینڈرز کے لیے اشتہارات جاری کر دیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…