ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے عوام پر بجلی گرا دی

datetime 22  جولائی  2023 |

اسلام آباد/لاہور( این این آئی)حکومت نے عوام پر بجلی گرا دی، بجلی کے بنیادی ٹیرف میں3روپے سے7 روپے 50 پیسے فی یونٹ تک اضافہ کر دیا گیا،اضافے سے اوسط فی یونٹ ٹیرف 35 روپے 42 پیسے سے بڑھ کر 42 روپے 72 پیسے فی یونٹ اورسیلز ٹیکس کے نفاذ کے بعد قیمت 50 روپے تک پہنچ جائے گی، بنیادی قیمت میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی سے کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور منظوری کے بعد جولائی کے بقایا جات بھی عوام سے وصول کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق کابینہ نے بجلی کی قیمت میں اضافے کی سرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری دی،

نیپرا نے ٹیرف اوسط 4 روپے 96 پیسے فی یونٹ بڑھانے کی منظوری دی تھی، یہ منظوری رواں مالی سال کے لیے تھی۔حکومت نے بنیادی قیمت میں اضافے کی درخواست نیپرا میں دائر کر دی ہے، نیپرا اب وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ دے گا، نیپرا سبسڈی ایڈجسٹمنٹ کو مد نظر رکھ کر سماعت کے بعد فیصلہ کرے گا۔ ذرائع کے مطابق نیپرا کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دے گی، قیمتوں میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی سے کرنے کی تجویز ہے۔100 یونٹ والے گھریلو صارفین کے لیے بجلی 3 روپے فی یونٹ ، 101 سے 200 یونٹ والے صارفین کے لیے 4 روپے فی یونٹ ، 201 سے 300 یونٹ تک والے صارفین کے لئے 5 روپے فی یونٹ، 301 یونٹ سے 400 یونٹ تک 6 روپے 50 پیسے فی یونٹ جبکہ 400 سے 700 یونٹ والے صارفین کے لیے 7 روپے 50 پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔اضافے سے اوسط فی یونٹ ٹیرف 35 روپے 42 پیسے سے بڑھ کر 42 روپے 72 پیسے فی یونٹ ہو جائے گا، سیلز ٹیکس کے نفاذ کے بعد فی یونٹ قیمت 50 روپے تک پہنچ جائے گی، بنیادی قیمت میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی سے کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور منظوری کے بعد جولائی کے بقایا جات بھی عوام سے وصول کیے جائیں گے۔

دوسری جانب عوام نے بجلی کے بنیادی ٹیرف اس قدر اضافے پر شدید رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ غریب تین سے دو وقت کی روٹی پر آگیا تھا اور اب لگتا ہے ایک وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہو گی ۔ اس فیصلے سے حکمرانوں ، اشرافیہ ،بیورو کریٹس اور صنعتکاروں کو کیا فر ق پڑے گا ، یہ سارا بوجھ ٹوٹی ہوئی کمر کے ساتھ غریب عوام ہی اٹھائیں گے ،غریب اتنے بھاری بھرکم بل ادا نہیں کر سکتے اور وہ اپنے میٹر کٹوانے کو ترجیح دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…