منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

کسٹم چیک پوسٹ 4 سے 5 کروڑ روپےکمائے جا رہے ہیں، گرفتار کسٹم افسران کا اعلیٰ افسران کے بھی ملوث ہونے کا انکشاف

datetime 15  جولائی  2023 |

اسمگلنگ کیس میں گرفتار کسٹم افسران کا اعلیٰ افسران کے بھی ملوث ہونے کا انکشاف
کسٹم چیک پوسٹ، موچکو، سہراب گوٹھ اور گھگر پھاٹک سے ماہانہ 40سے 50ملین روپے کمائے جا رہے ہیں، ملزمان کا انکشاف
اسلام آباد(این این آئی)اسمگلنگ کیس میں گرفتار کسٹم افسران کے خلاف درج مقدمے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ایف آئی اے نے کئی روز سے لاپتہ کسٹم افسران طارق محمود اور یاور عباس کو اسلام آباد جاتے ہوئے گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 54 لاکھ روپے، ڈھائی ہزار امریکی ڈالر اور 6100درہم برآمد کئے تھے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق دونوں افسران کو کسٹمز میں میگا کرپشن اسکینڈل کے تحت گرفتار کیا گیا ، ملزمان کے خلاف ایف آئی آے اینٹی کرپشن سرکل میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔کسٹم افسران کے خلاف درج مقدمے کی تفصیلات عدالت میں پیش کر دی گئی ہیں جس میں کسٹم افسران کے خلاف درج مقدمے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات میں کلکٹر کسٹم کے اعلیٰ افسران کا اسمگلنگ میں سہولت کاری اور کروڑوں کمانے کا انکشاف ہوا ہے، دستاویزات کے مطابق گرفتار دو افسران نے ابتدائی انوسٹی گیشن میں انکشاف کیاکہ اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم کسٹم افسران میں تقسیم کی جانی تھی۔گرفتار افسران نے بتایاکہ کسٹم چیک پوسٹ، موچکو، سہراب گوٹھ اور گھگر پھاٹک سے ماہانہ 40سے 50ملین (4سے 5 کروڑ روپے)کمائے جا رہے ہیں،کسٹم افسراں چیک پوسٹ پر اسمگلنگ میں سہولت کاری کرتے ہیں،صرف چھالیہ کی اسمگلنگ سے تقریباً 60ملین ماہانہ کسٹم افسران کما رہے ہیں۔دونوں ملزمان نے دوران تفتیش اسمگلنگ اور سہولت کاری میں ملوث افسران کے ناموں کا انکشاف کرتے ہوئے بتایاکہ کلکٹر کسٹم ڈائریکٹر افغان ٹرانزٹ ثاقف سعید،کلکٹر کسٹم ایکسپورٹ کلکٹوریٹ ہائوس عثمان باجوہ ، کلکٹر کسٹم انفورسمنٹ عامر تھیم سہولت کاری میں شامل ہیں۔ملزمان نے بتایا کہ عمران نورانی نامی شخص چھالیہ اسمگلنگ کا کاروبار چلا رہا ہے، عمران نورانی بلوچستان کے بارڈر ایریاز سے چھالیہ کراچی اور مختلف علاقوں میں لے جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…