ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر کی قیمت میں بڑی کمی

datetime 3  جولائی  2023 |

کراچی (این این آئی)اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں 5 روپے کا اضافہ ہوا، ماہرین نے وجہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے معاہدے کو قرار دیدیا۔فاریکس ایسوسی ایشن ا?ف پاکستان کے مطابق اوپن مارکیٹ میں بہتری کے بعد روپے کی تجارت 285 روپے پر ہو رہی ہے جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں بھی 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا،

پیر بینک کی تعطیل کی وجہ سے انٹربینک مارکیٹ کے اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ا?ف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے کہا کہ ئی ایم ایف معاہدے کے بعد منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ملک بوستان کے مطابق آنے والے دنوں میں امریکی ڈالر کی قدر کم ہو کر 275 روپے تک آسکتی ہے۔

انہوںنے کہاکہ ہمیں توقع ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد پاکستان کو دیگر عالمی اداروں سے بھی مالی معاونت بھی موصول ہوگی جس کے سبب ڈالر کی طلب میں کمی ہوگی۔ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچا نے بتایا کہ بینک کی تعطیل ہے لہٰذا ایکسچینج کمپنیز بھی بند ہیں۔انہوں نے پیش گوئی کی کہ آئی ایم ایف معاہدے پر دستخط کے بعد دیگر ممالک سے بھی گرانٹس ملنے کی توقع ہے، جس کے سبب تنزلی کا رجحان ہے اور ایسا نظر آتا ہے کہ گزشتہ روز ڈالر کی قدر میں مزید 5 روپے کمی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ زرمبادلہ مبادلہ کے ذخائر اور آئی ایم ایف کی گرانٹ ملک کے قرض کی ادائیگی کیلئے کافی نہیں، حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ روپے کی قدر میں استحکام کو طویل عرصے کے لیے یقینی بنایا جاسکے۔ظفر پراچا نے اس ضرورت پر زور دیا کہ کس طرح مؤثر طریقے سے طویل مدت میں ڈالر کی قدر بڑھنے پر قابو پایا جائے، حکومت کو اس پہلو پر ترجیح دینی چاہیے۔انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک نمایاں پر اخراجات کم نہیں کیے جاتے، پاکستان کو معاشی مسائل کا سامنا رہے گا اور روپے پر دباؤ برقرار رہے گا۔

پاکستان نے 30 جون کو آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کا قلیل المد ت انتہائی ضروری بیل آؤٹ پیکیج حاصل کیا تھا، جس سے معیشت کو مہلت لی جس کے ڈیفالٹ ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا۔2019 کے 6 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت فنڈز کے اجرا میں 8 مہینے کی تاخیر کے بعد 30 جون کو پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان 9 مہینے کے لیے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی انتظامات (ایس بی اے) پر عملے کی سطح کا معاہدہ ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…