بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

کینوکے برآمدکنندگان کو سمندری کرایوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا

datetime 1  دسمبر‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)موسم سرما کے پھل کینو کا برآمدی سیزن شروع ہو گیا تاہم گزشتہ سالوں کے مقابلے میں رواں سیزن میں برآمد کنندگان میں روایتی گرمجوشی نظر نہیں آرہی۔اطلاعات کے مطابق سرگودھا میں اکادُکا فیکٹریاں برآمدات کی تیاری کررہی ہیں۔ کینو کے برآمدکنندگان کو سمندری کرایوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ

گزشتہ سال کینو کی ایکسپورٹ ساڑھے 3 لاکھ ٹن کے ہدف کے مقابلے میں ساڑھے 4لاکھ ٹن ہوگئی تھی لیکن رواں سال کینو کی ایکسپورٹ گزشتہ سال سے 35فیصد کمی سے 3لاکھ ٹن تک رہنے کا امکان ہے۔سمندری کرایوں کے بحران کی وجہ سے روس، کینیڈا، یوکرین، انڈونیشیا اور فلپائن کی منڈیوں میں پاکستانی کینو کی برآمدات زیادہ متاثر ہوںگی۔ان ملکوں میں پاکستان سے 50فیصد کینو برآمد کیا جاتا ہے۔آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی وحید احمد کے مطابق سمندری کرائے جو گزشتہ سیزن 2500سے 3000ڈالر تھا اب بڑھ کر 7000ڈالر فی کنٹینرز تک پہنچ چکا ہے۔اس ہی طرح فلپائن،انڈونیشیا کا کرایہ 2000 ڈالر سے بڑھ کر 4000 سے 5000 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ سمندری کرایوں میں غیرمعمولی اضافہ کے ساتھ شپنگ کمپنیوں کا شیڈول بھی مقرر نہیں ۔ جلد تلف ہونے والے پھلوں کی کھیپ بروقت اپنی منزل تک پہنچنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے،ایسے حالات میں برآمدات کی لاگت کے ساتھ خدشات بھی بڑھ گئے ہیں جس سے پاکستان کی کینو کی برآمدمتاثر ہوگی۔حکومت زمینی راستے سے ایکسپورٹ میں سبسڈی دے تو کینو کی برآمدات متاثر ہونے سے بچائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کے کینو کی ایک اچھی مارکیٹ ہے تاہم ایرانی حکام کی جانب سے امپورٹ پرمٹ جاری نہ کیے جانے کی وجہ سے یہ اہم مارکیٹ 10سال سے بند پڑی ہے۔ گزشتہ سال ایران نے محدود عرصہ کیلیے امپورٹ پرمٹ جاری کیے تھے جو اس سال تاحال جاری نہ ہوسکے۔ ایران کے ساتھ بات چیت کرکے ایران کی مارکیٹ کھلوائی جائے تو 80ہزار ٹن کینو ایران ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ کینو کے پرانے باغات موسمی اثرات کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہیں اوررواں سیزن کینوکی پیداوار بھی 30فیصد کم رہنے کا خدشہ ہے۔ پاکستان میں 24لاکھ ٹن کینو پیدا ہوتا ہے جبکہ رواں سال پیداوار 17لاکھ ٹن تک محدود رہنے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…