ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

مرغی کے گوشت کی قیمت 600 روپے سے بھی کراس کر گئی، بائیکاٹ چکن مہم کا آغاز کر دیا گیا‎

datetime 21  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن/این این آئی )کوئٹہ سمیت صوبے بھرمیں رمضان اور عید کے بعد بھی مرغی کی قیمتوں میں کمی نہ ہوسکی، 500 سے 600 روپے فی کلو تک گوشت فروخت ہونے لگا ہے جس کے سبب شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں، کوئٹہ کے شہری بکرے کا گوشت مہنگا ہونے کے بعد مرغی کا گوشت استمال کررہے تھے۔ نجی ٹی وی دنیا کے مطابق

عید سے قبل قیمتوں میں اضافہ تو تھا ہی عید کے بعد بھی قیمتیں کم نہ ہو سکیں، 510 روپے میں فروخت ہونے والی مرغی اب 550 روپے فی کلو اور دیہی علاقوں میں 600 روپے میں فروخت کی جارہی ہے جو کہ شہریوں پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ہے۔ عوام بڑھتی ہوئی قیمتوں سے شدید پریشان ہیں۔دوسری جانب شہر کے اوپن بازاروں میں برائیلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں اضافے کا رجحان گزشتہ روز بھی جاری رہا جس کے نتیجے میں جمعرات کے روز برائیلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں 5 روپے فی کلو اضافہ کردیا گیا اور اس اضافے کے بعد اوپن بازاروں میں مرغی کے گوشت کی قیمت 434 روپے فی کلو کی سطح پر پہنچ گئی واضح رہے کہ گزشتہ 3 روز کے دوران شہر میں برائیلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں 24 روپے فی کلو تک اضافہ ہوچکا ہے۔دریں اثنا فیصل آباد میں گزشتہ کئی روز سے برائلر مرغی گوشت کی قیمت میں اضافہ جاری ہے، اب ایک بار پھر برائلر مرغی گوشت کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق برائلر مرغی گوشت کی قیمت آسمان کی بلندی پر پہنچ گئی مرغی کا گوشت پانچ روپے فی کلو اضافے کے بعد 450 روپے فی کلو میں فروخت ہونے لگا۔گزشتہ 3 روز میں برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں 24 روپے اضافہ ہوا ہے۔خریداروں کا کہنا ہے کہ گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ان کی سمجھ سے باہر ہے۔صرف صارفین ہی نہیں دکاندار بھی بڑھتی قیمتوں سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں دکانداروں کا کہنا ہے اتنا مہنگا گوشت خریدنے گاہک نہیں آتے جس وجہ سے ان کی سیل پر اثر پڑا ہے، سارا دن فارغ بیٹھے رہتے ہیں بہت کم گاہک آتے ہیں۔دوسری جانب شہری مہنگے داموں سبزیاں اور پھل خریدنے پر مجبور ہیں،شہر کی سبزی و فروٹ منڈیوں میں بھی منافع خور مافیا بے لگام ہو گیا ہے۔شہری کہتے ہیں صرف گوشت اور پھل سبزی نہیں بلکہ ہر چیز کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے جس سے ان کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے مہنگائی اگر اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو نوبت فاقوں تک نہ آ جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…