جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بھارتی تاجراب پاکستانی پہاڑی نمک کھیوڑہ کو ہمالیہ پنک سالٹ کہہ کر فروخت نہیں کرسکیں گے، حکومت نے بڑا قدم اٹھا لیا

datetime 30  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)کھیوڑہ نمک بین الاقوامی تجارتی اداروں میں رجسٹرڈ کرانے کی تیاری مکمل کرلی گئی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس اقدام کے بعد بھارتی تاجر پاکستانی پہاڑی نمک کھیوڑہ کو ہمالیہ پنک سالٹ کہہ کر فروخت نہیں کرسکیں گے۔وفاقی کابینہ نے حال ہی میں منظوری دی ہے کہ پاکستان معدنیات ترقیاتی کارپوریشن (پی

ایم ڈی سی) ملک میں پیدا ہونے والے پہاڑی نمک کی رجسٹرڈ ایجنسی ہوگی۔پی ایم ڈی سی نے انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان (آئی پی او پاکستان) کے زیر انتظام اور کنٹرول جغرافیائی انڈیکیشنز(جی آئی) سے رجسٹرڈ ہونے کے لیے تمام قانونی تقاضوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔آئی پی او پاکستان کے تحت ملک غیر ملکی منڈیوں میں اندراج کے لیے اپنی درخواست پیش کرے گا۔رواں سال جنوری میں ملک میں جی آئی کے قواعد وضع کیے گئے تھے جو تقریباً دو دہائیوں سے زیر التوا تھے لیکن ہمسایہ ملک بھارت کے تاجروں نے اس خلا کا فائدہ اٹھایا اور یورپی یونین میں باسمتی چاول کی جی آئی ٹیگنگ کے لیے درخواست دی اور یہ دعوی کیا کہ یہ زرعی پیداوار بھارت کی ہے۔پی ایم ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر (ر) بریگیڈ ایم اقبال ملک نے کہا کہ پاکستان نے کھیوڑہ نمک کو پنک راک نمک قرار دے دیا ہے اور اس کی خصوصیات کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پہاڑی نمک برآمدات کے لیے منافع بخش چیز ہے اور نہ ہی پاکستان پہاڑی نمک کو ایک تجارتی اور صنعتی مصنوعات کے طور پر فروخت کیا جارہا تھا۔ انہوںنے کہاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں جی آئی کے ٹیگنگ کے فورا بعد ہی پاکستان اس پوزیشن میں ہوگا کہ بیرون ملک خریداروں کے ساتھ طویل مدتی فروخت کا معاہدہ کرسکے۔

اتفاقی طور پر یہ اصطلاح بھارت کے تاجروں نے کھیوڑہ سے کان کنی والے پہاڑی نمک کی عالمی مارکیٹنگ کے لیے استعمال کی ہے تاہم تقریباً 2 سال قبل بھارت کے ساتھ غیر ضروری اشیا کی تجارت معطل ہونے کے بعد بھارت کو نمک کی برآمد بھی معطل کردی گئی تھی۔پہاڑی نمک کے حوالے سے کوئی فروخت کی پالیسی نہیں ہے

لہذا زیادہ تر نمک کی برآمدات کے لیے مشرق وسطیٰ سے پہاڑ کی شکل میں برآمد کیا جاتا ہے۔کراچی میں مقیم نمک کے ایک تاجر احمد خان نے کہا کہ پہاڑی نمک کی عالمی سطح پر بہت زیادہ مانگ ہے نہ صرف کھانے کے نمک کی حیثیت سے بلکہ کوریا اور تھائی لینڈ کے مساج مراکز میں شفا بخش ایجنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔احمد خان

نے بتایا کہ نمک کا زیادہ تر کاروبار چھوٹے تاجروں کے ہاتھ میں تھا اور پیکنگ اور دیگر ویلیو ایڈیشن کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت تھی لیکن کسی پالیسی کے بغیر چھوٹے تاجر بینکوں سے قرض نہیں لے سکتے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی تاجروں متحدہ عرب امارات کے راستے خریدے گئے نمک کو پرکشش پیکنگ میں تیار کرکے بھاری قیمت میں یورپی یونین، امریکا اور یہاں تک کہ مشرق بعید میں برآمد کرتے ہیں،اس کے لیبل پر درج ہوتا ہے کہ یہ نمک بھارتی ہمالیہ کی پیداوار ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…