جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

سرکاری احکامات کھوہ کھاتے، چینی کی مہنگے داموں فروخت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری

datetime 3  اپریل‬‮  2021 |

رائے ونڈ (این این آئی)رائے ونڈ کی تاجر برادری نے سرکاری احکامات ہوا میں اڑا دئیے ،100روپے فی کلو چینی کی فروخت جاری ،ضلعی انتظامیہ کی غفلت سے گرانفروشی کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ۔تفصیلات کے مطابق رائے ونڈ میں چینی مافیا کی کارروائیاں جاری ہیں درجن بھر سے زائد چینی ڈیلرز نے حکومت کی جانب

سے چینی کی مقررکردہ نئی قیمت 85روپے میں چینی فروخت کرنے سے صاف انکار کردیا ہے شہر کے تجارتی مراکز میں 100روپے فی کلو چینی فروخت ہو رہی ہے جبکہ گلی محلوں میں چینی کی قیمت 110روپے تک وصول کی جارہی ہے چینی ڈیلرز نے نئے سرکاری احکامات ماننے سے نہ صاف انکار کردیا ہے بلکہ منہ مانگی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں جس سے چھوٹے دکاندار اور گاہکوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔کریانہ مرچنٹس رہنمائوں نے چینی کی نئی قیمت 85روپے کو نئے سٹاک کیساتھ مشروط کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک پرانا سٹاک موجود ہے ہم 100روپے سے کم میں فروخت نہیں کرینگے ادھر گاہکوں نے مقامی شوگر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے رائے ونڈ میں گرانفروشی کا سیلاب آیا ہوا ہے ۔پرائس مجسٹریٹ کے ساتھ معاملات طے ہونے کی وجہ سے انہیں کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے ۔ذرائع کے مطابق رائے ونڈ شوگر مافیا نے لاکھوں بوری چینی کی سٹاک کررکھی ہے جنہوں نے چند ماہ کے دوران کروڑوں روپے کمالئے ہیں اب سرکاری احکامات کی روشنی میں 85روپے فی کلو چینی کی فروخت خواب بن کررہ گئی ہے سادہ لوح شہری مقامی شوگر مافیا کے رحم وکرم پر ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…