جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئی

datetime 3  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد،لاہور (این این آئی)مارچ میں ماہانہ بنیادوں پر تجارتی خسارہ 28 فیصد بڑھ گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مارچ میں تجارتی خسارہ 3 ارب 27 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز رہا،جولائی تا مارچ تجارتی خسارے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔مارچ میں سالانہ بنیادوں پر درآمدات میں 70 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا اور مارچ میں ماہانہ بنیادوں پر

درآمدات 21.83 فیصد بڑھیں۔دوسری جانب حکومت نے کپاس کی ریکارڈ پیداوار کے لئے بڑے منصوبہ پر کام شروع کردیا ہے جس کے تحت پنجاب میں نئی منصوبہ بندی کے تحت کپاس کی کاشت شروع کی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں اس سال 40لاکھ ایکڑ اراضی پر کپاس کاشت کی جائے گی ،کپاس کے کسانوں کو اربوں روپے کی سبسڈی کی فراہمی کی جاے گی ،سفید مکھی کے تدارک کیلئے زرعی ادویات پر سبسڈی بھی دی جائے ،آئندہ سیزن میں کپاس کے بیج پر سبسڈی دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق سبسڈی کے لئے وفاقی حکومت 3.2ارب روپے فراہم کرے گی ، پنجاب حکومت کپاس کے کاشتکاروں کو 1 ہزار روپے فی بیگ منظور شدہ اقسام کے بیج پر سبسڈی فراہم کرے گی،کپاس کی فصل کو سفید مکھی سے بچانے کیلئے 4.4 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق کاشتکاروں کو کپاس کی طرف راغب کرنے کے لیے ریلیف پیکج تیار کیا گیا ہے ،پنجاب میں کپاس کی ریکارڈ پیداوار حاصل کرکے درآمدی

حجم کوکم سے کم کرنا ہے ۔ ملک کی مجموعی پیداوار کاتقریباً 80 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے ، کپاس کی کاشت کے مرکزی علاقوں میں ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں ،بہاولنگر، بہاولپور، ڈی جی خان، راجن پور ،مظفر گڑھ، لیہ، ساہیوال اور رحیم یار خان کے اضلاع شامل ہیں جبکہ ثانوی علاقوں میں فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، بھکر، میانوالی، قصور، اوکاڑہ اور پاکپتن کے اضلاع شامل ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…