ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’’3ہفتے میں مرغی کا گوشت 100روپے کلو مہنگا ‘‘

datetime 22  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن)مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ، ضروریات زندگی کی عام اشیاء کی قیمتوں کو بھی آسمان پر پہنچا دیا گیا ۔قومی موقر نامے کی رپورٹ کے مطابق موجودہ مہنگائی کی صورتحال کے پیش نظر متوسط اور تنخواہ دار طبقے کےک بعد سفید پوش طبقے کیلئے بھی ماہانہ خرچ چلاناانتہائی مشکل ہو گیا ہے ۔ چھوٹی اور بڑے گوشت کے بعد

اب شیور مرغی کا گوشت بھی متوسط طبقہ کی دسترس سے باہر ہو چکا ہے ۔ گزشتہ تین ہفتوں میں شیور مرغی کا گوشت کم و پیش 100روپے کے اضافے کے کیساتھ 360روپے فی کلو تک پہنچ گیا جبکہ چھوٹا گوشت بارہ سو روپے کلو ، بغیر ہڈی کا بڑا گوشت چھ سو پچاس روپے کلو بک رہا ہے ۔ اسی طرح گھی تین سو روپے ، چینی پچانوے روپے ، چائے کی پتی اول درجہ ایک ہزار ، دال ماش دو سو اسی روپے ، دال مونگ دو سو ساٹھ روپے کلو ، اعلی کوالٹی باسمتی چاول دو سو روپے کلو ، دال چنا ایک سو اسی روپے کلو ، سفید چنے ایک سو ستر روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں ۔ جبکہ مارکیٹ میں تازہ دودھ ایک سو تیس روپےلیٹر ، پیکٹ کا دود ایک سو پچاس روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے ۔ مارکیٹ ذرائع نے بتایا ہے کہ ملبوسات اور جوتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ عام مارکیٹ کے ساتھ سستے اتوار بازار بھی مہنگائی کے سیلاب کی زدہ میں آچکے ہیں ۔ چینی ، شیشے ، سٹیل اور سلور کے برتن کی قیمتوں میں بھی سو فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے ۔ دوسری جانب رواں کاروباری ہفتے کے پہلے روز شہر کے عام بازاروں میں برائیلر مرغی کے گوشت سمیت زندہ مرغی کی قیمت میں اضافے کا رجحان جاری رہا۔ جس کے نتیجے میں شہر کے عام بازاروں میں برائیلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں 8 روپے فی کلو اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جس کے بعد برائیلر مرغی کے گوشت کی قیمت 328 روپے فی کلو کی سطح پر دیکھنے میں آئی جبکہ زندہ مرغی کی قیمت 260 روپے فی کلو کی سطح پر پہنچ گئی۔ عام بازاروں میں فارمی انڈوں کی فی درجن قیمت 149 روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔ واضح رہے کہ 14 فروری کو برائیلر مرغی کے گوشت کی قیمت 303 روپے فی کلو تھی جو بڑھ کر 328 روپے فی کلو کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…