بدھ‬‮ ، 22 جولائی‬‮ 2026 

چینی کمپنی لاہور اور قصور کی سرحد پر صنعتی پارک میں 15 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کیلئے کوشاں

datetime 21  فروری‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)چین کی ایک کمپنی لاہور اور قصور کی سرحد پر ایک صنعتی پارک میں 15 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کررہی ہے جس میں امریکہ، یورپ، ایشیا پیسفک اور دنیا کے دیگر خطوں کو پاکستان سے سپورٹس ویئر برآمد کرنے کے لیے کپڑے کا جدید ترین یونٹ، رنگائی اور لباس تیار کرنے سہولیات موجود ہوں گی۔میڈیا

رپورٹ کے مطابق شنگھائی سے تعلق رکھنے والی کمپنی چیلنج کا یہ منصوبہ ممکنہ طور پر پاکستان کی برآمداتی صنعت میں پہلی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہے۔یہ کمپنی پہلے ہی 2017 سے چیلنج اپیریل کے نام سے لاہور کے ملتان روڈ پر گارمنٹ تیار کرنے کا یونٹ چلارہی ہے اور کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے مطابق گزشتہ مالی سال 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا برآمداتی ریونیو کمایا گیا۔مینیجنگ ڈائریکٹر کے مطابق انہیں اپنے موجودہ یونٹ سے رواں مالی سال 5 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی برآمدات ہونے کی توقع ہے۔دوسری جانب آئندہ برس جولائی تک جب چیلنج فیشنن انڈسٹریل پارک فعال ہوجائے گا تو پاکستان سے اس کی اسپورٹس ویئر برآمدات پہلی مالے سال میں 12 کروڑ ڈالر اور آئندہ چند برسوں میں 40 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔پاکستان کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل کمپنی کی بھی برآمدات گزشتہ مالی سال کے دوران 30 کروڑ ڈالر سے کم رہی تھی۔کمپنی کی مینیجنگ ڈائریکٹر نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہماری مکمل پیداوار برآمدات کے لیے ہے، ہم دنیا بھر سے سب سے موثر ، جدید اور ماحول دوست ٹیکنالوجی پاکستان لا رہے ہیں اور ہمارا مقصد پاکستان کو پولیسٹر سے بنے اسپورٹس ویئر کا حب بنانا ہے۔اس وقت کمپنی میں 28 چینی شہریوں سمیت 3 ہزار ملازمین کام کرتے ہیں اور جب انڈسٹریل پارک مکمل

طور پر فعال ہوجائے گا تو یہاں 10 سے 11 ہزار نوکریاں پیدا ہوں گی۔کمپنی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یونٹ پرائس کا فرق کپڑے کی کوالٹی کی وجہ سے ہے، اگر آپ اعلی معیار کی چیز دے رہے ہیں تو صارف سے کوئی بھی رقم لے سکتے ہیں، پاکستانی کاٹن سے بنی گارمنٹ مقامی کپاس کے کم معیار کی وجہ سے کم یونٹ پرائس رکھتی ہیں۔دیگر

چینی کمپنی پاکستان کیوں نہیں آرہیں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چینی ٹیکسٹائل انڈسٹری پاکستان منتقل ہونا چاہتی ہیں کیونکہ مزدوروں کی کمی اور معاوضوں میں اضافے کی وجہ سے کمپنیاں پاکستان آنا چاہتی ہیں۔تاہم انہیں یہاں اپنی دکان لگانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ملتی کیونکہ جب آپ اراضی خریدتے ہیں تو آپ کو گیس

یا بجلی اور دیگر یوٹیلیٹیز نہیں ملتی۔چینی کمپنیاں ایسی جگہ اپنا کاروبار منتقل کرنا چاہتی ہیں جہاں وہ 3سے6 ماہ میں اپنا آپریشن شروع کرسکیں، جب آپ سمندر پار سرمایہ کاری کرتے ہیں حتی کہ افریقہ میں صنعتی پارکس تیار ہیں آپ صرف جائیں اور جا کر پلگ اینڈ پلے کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…