ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ایل این جی مہنگی ہونے پر عالمی کمپنیوں کا پاکستان کو گیس دینے سے انکار،فروری میں گیس بحران شدت اختیار کرنے کا خدشہ

datetime 18  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایل این جی مہنگی ہونے پر عالمی کمپنیوں نے پاکستان کوایل این جی گیس دینے سے انکار کر دیا، ذرائع کے مطابق رواں سال فروری میں گیس بحران شدت اختیار کرنے کا خدشہ ہے ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ( ن) پر قطر سے مہنگی ایل این جی درآمد کرنے کا واویلا کرنے والی پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت اب تک کی سب سے مہنگی قیمت پر گیس لینے

کو تیارہے لیکن کو ئی سپلائر اسے دینے کو تیار نہیں ہو رہا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی کمپنیوں نے فروری کے لیے بڈنگ کے باوجود ایل این جی سپلائی کرنے سے انکار کردیا جس کے باعث ملک میں گیس کی بد ترین لوڈشیڈنگ اور بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ پی ایل ایل نے گیس درآمد کرنے کے لیے 28 نومبر 2020 کوفروری کےلیے دو کارگوز درآمد کرنے کا اشتہاردیا تھا۔پہلے سپاٹ کارگو کے لیے برطانیہ کی ایک کمپنی سوکار ٹریڈنگ یوکے لمیٹڈ کو ٹھیکہ دیا تھا جبکہ دوسرے سپاٹ کارگو کے لیے بولی میں کم قیمت پر ایل این جی فراہم کرنے کا دعویٰ کرنے والی کمپنی کو ٹھیکہ دیا ۔ رپورٹ کے مطابق دسمبر2020 کو بولی کے ٹینڈرز کھولے گئے اورپبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹر اتھارٹی (PPRA ) رولز کے مطابق ان کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔7 جنوری 2021 کوکامیاب بولی دہنددگان کو کنٹریکٹ ایوارڈ کیے گئے۔ وسط فروری کے کارگو کیلئے کنٹریکٹ SOCAR ٹریڈنگ یوکے جبکہ فروری کے آخری ہفتے کا کنٹریکٹ بھی سب سے کم بولی دینے والی فرم کو دیا گیا لیکن اس وقت تک انٹرنیشنل مارکیٹ میں گیس مہنگی ہو چکی تھی جس کے سبب دونوں فرموں نے اپنی بولی میں دی گئی قیمتوں پر ایل این جی لانے سے انکار کر دیا۔اس کے بعد پی پی ایل نے دوسرے اور تیسرے نمبر پر بولی دینے والی فرموں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی بولی میں اپنی پیش کردہ قیمتوں پر گیس لانے سے انکار کر دیا۔ عالمی مارکیٹ میں ایل این جی مہنگی ہونے کے بعد ریاستی ادارے بھی گیس درآمد کرنے سے معذوری کا اظہار کر رہے ہیں۔ عوام کو گیس بحران سے بچانے کے لیے حکومت اب تک کی سب سے مہنگی قیمت پر بھی گیس خریدنے پر تیارتھی مگر سپلائرز نے اس قیمت پر بھی دینے سے انکارکردیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…