اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وبا کی دوسری لہر پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران شدید مندی سرمایہ کاروں کے 246 ارب روپے سے زائد ڈوب گئے

datetime 31  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) کورونا وبا کی دوسری لہر نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور گزشتہ ہفتے کے دوران سرمایہ کاروں کے 246 ارب روپے سے زائد ڈوب گئے۔عالمی سطح پر کورونا وبا کی دوسری لہر سے خام تیل کی گھٹتی ہوئی عالمی قیمتوں

سے عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی نے گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیوں کو مندی سے دوچار کیا۔ ملک میں کورونا انفیکشن کا تناسب 3 فیصد ہونے سے دوبارہ لاک ڈائون کے خطرات نے مارکیٹ میں سرمایہ کاری کومتاثر کیا۔ لسٹڈ کمپنیوں کے ملے جلے مالیاتی نتائج، رول اوور ویک کے باعث ادھار سودوں کے تصفیے بھی کاروبار پر اثرانداز رہے جب کہ عالمی بینک کی ٹیکس اصلاحات ریٹنگ کم کیے جانے اور 400 ملین ڈالر قرض کا معاملہ مشکوک ہونے سے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوا۔29اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتہ وار کاروبار کے ایک سیشن میں تیزی اور 3 میں مندی ہوئی۔ مندی کے باعث انڈیکس کی 41000 اور 40000 پوائنٹس کی 2 نفسیاتی حدیں بھی گرگئیں۔ ہفتے وار کاروبار کے دوران مجموعی طور پر مندی کے باعث سرمایہ کاروں کے 2کھرب 46 ارب 94 کروڑ 14 لاکھ 20 ہزار 163 روپے ڈوب گئے جس سے مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ بھی

گھٹ کر 73 کھرب 99 ارب 62 کروڑ 91 لاکھ 81 ہزار 308 روپے ہوگیا۔ہفتے وار کاروبار میں 100 انڈیکس1378 پوائنٹس گھٹ کر39888 پوائنٹس پربند ہوا جبکہ کیایس ای 30انڈیکس630.91 پوائنٹس گھٹ کر 16750.37 پوائنٹس پربند ہوا۔ کے ایم آئی 30انڈیکس 2438.03 پوائنٹس گھٹ کر 63496.69 پوائنٹس پربند ہوا اور کے ایم آئی پی ایس ایکس انڈیکس 698.26 پوائنٹس گھٹ کر19613.58 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…