اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

نااہل افسران محکمہ اینٹی کرپشن کی بدنامی کا باعث بن گئے،پروجیکٹ کا معلوم ہونے پر افسران ہکا بکا،معذرت ،ریکارڈ واپس کرنے پر مجبور

datetime 21  جولائی  2020 |

کراچی(این این آئی)ورلڈ بینک کے1500 ارب کے واٹر بورڈ میں جاری ترقیاتی پروگرام کو یونین کونسل پروگرام سمجھ کر چھاپہ مارنے والی اینٹی کرپشن کی ٹیم کو معافی مانگنی پڑگئی۔فراہمی ونکاسی آب کی بہتری کیلیے عالمی بینک کی جانب سے 1500 ارب سے زائد کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے

جس کا نام کراچی واٹر اینڈ سیوریج امپرومنٹ پروجیکٹ رکھا گیا ہے،ذرائع کے مطابق مذکورہ ڈیڑھ ہزار ارب لاگت کے پروجیکٹ کے پی ڈی ایوب شیخ ہیں۔ذرائع نے بتایاکہ 14 جولائی کواینٹی کرپشن کی ٹیم نے شکایات پر بھاری نفری کے ہمراہ مذکورہ پروجیکٹ کے پی ڈی کے دفتر پر چھاپہ مارا تھا اور مذکورہ چھاپہ اہم شواہد کی روشنی میں مارا گیا ہے۔دریں اثنا دیگر انکوائریوں کی طرح اینٹی کرپشن کی ٹیم نے مذکورہ پروجیکٹ کو بھی معمولی پروجیکٹ سمجھتے ہوئے بلاجواز کارروائی کی جو کہ اینٹی کرپشن کی ٹیم کے حلق میں پھنس گئی،ذرائع نے بتایاکہ اینٹی کرپشن نے مذکورہ چھاپے سے معذرت کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ وہ کسی قسم کی انکوائری نہیں کررہے۔دوسری جانب  ذرائع نے بتایاکہ پی ڈی ایوب شیخ نے بلاجواز چھاپے کے باوجود اینٹی کرپشن کی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون برقرار رکھا جو جو کاغذات طلب کئے گئے وہ ٹیم کو فراہم بھی کردیئے۔واٹر بورڈذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن کی ٹیم نے عالمی بینک کے15سو ارب لاگت کے ترقیاتی پروگروم کو یونین کونسل کا پروگرام سمجھ کر چھاپہ مارا اور حقائق سامنے آنے پر اینٹی کرپشن کے حکام خود ہکا بکا ہوکر رہ گئے یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اینٹی کرپشن کی ٹیم نے ناصرف چھاپے سے معذرت کی بلکہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کو کلین چٹ دیدی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…