پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

مویشی منڈی کے نئے اوقات کار سے شہری پریشان، حکومتی فیصلہ مسترد

datetime 14  جولائی  2020 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے شہریوں نے حکومت کی جانب سے مویشی منڈیوں کے نئے اوقات کار مسترد کردیئے، نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفتر کے اوقات میں کیسے منڈی جائیں، اتنے کم وقت میں خریداری ممکن نہیں۔وفاقی حکومت نے ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں خریداروں کیلئے صبح 6 سے شام 7 بجے تک اوقات کار مقرر کردیئے،

جس کے بعد کراچی کے عوام نے حکومتی فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔وفاقی وزیر اسد عمر کی زیرصدارت این سی او سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مویشی منڈیوں کے اوقات کار صبح 6 سے شام 7 بجے تک ہوں گے اور تمام ایس او پیز پر علمدرآمد کرایا جائے گا۔حکومتی فیصلے پر کراچی کے شہریوں نے کہاکہ ایسا نہیں ہوسکتا ہم دفتر کے وقت کیسے مویشی منڈی جائیں گے؟، ہم صبح 8 بجے گھر سے دفتر کیلئے نکلتے ہیں اور شام 7 بجے گھر واپسی ہوتی ہے اور شام کے وقت تھوڑا آرام کرکے ہی قربانی کا جانور خریدنے کیلئے نکلتے ہیں۔شہریوں نے کہا کہ اتنے تھوڑے وقت میں قربانی کا جانور کیسے خریدیں گے جبکہ ہمارے دفتر کے اوقات ہی شام تک کے ہیں، سپرہائی وے کراچی پر شہر سے دور قائم مویشی منڈی میں وفاقی احکامات سے بے خبر شہری شام 7 بجے کے بعد بھی قربانی کے جانوروں کی خریداری کرتے ہوئے نظر آئے۔شہریوں نے کہاکہ حکومت ہوش کے ناخن لے، ایک تو ہمارے پاس روزگار نہیں ہے، دوسرا بلاوجہ کی پابندیاں لگانے سے شہری مزید پریشانی کا شکار ہوجائیں گے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ 24 گھنٹے قربانی کے جانوروں کی خریداری کی اجازت سے رش میں اضافے کے بجائے کمی آئے گی اور لوگ آسانی سے اپنے لئے قربانی کا جانور خرید سکیں گے، حکومت سے گزارش ہے کہ لوگوں کو مشکل میں ڈالنے کے بجائے آسانی پیدا کی جائے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…