اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

لاک ڈاؤن سے دیہاڑی دار اور غریب طبقہ پہلے ہی نڈھال، بڑھتی مہنگائی نے جینا بھی مشکل کر دیا، سبزیوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا

datetime 11  جولائی  2020 |

کراچی (این این آئی)شہر قائد میں کھانے پینے کی بنیادی چیزوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر من مانا اضافہ ہو گیا ہے، ایک طرف لاک ڈاؤن کی وجہ سے عام آدمی کی قوت خرید میں کمی آئی دوسری طرف اس کے لیے اشیائے ضروریہ مزید مہنگی کر دی گئیں۔تفصیلات کے مطابق کراچی والوں کے لیے یہ ایک بری خبر ہے کہ دودھ کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا گیا ہے،

دودھ فروشوں نے ایک بار پھر حکومت کی رٹ چیلنج کرتے ہوئے دودھ 110 روپے فی لیٹر سے 120 روپے فی لیٹر کر دیا۔شہر میں دودھ 120 روپے فی لیٹر فروخت کیا جانے لگا ہے جب کہ انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی بدستور جاری ہے، ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر شاکر گجر نے دعوی کیا ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے دودھ کی قیمت بڑھانی پڑی۔انھوں نے کہا کہ ڈیری فارمرز نے دودھ 120 روپے فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا، بھینس کالونی میں دودھ کی قیمتوں میں 330 روپیا فی من کا باہمی مشاورت سے اعلان کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ دودھ کی سرکاری قیمت 94 روپے فی لیٹر مقرر ہے، جب کہ دودھ غیر سرکاری قیمت 110 روپے فی لیٹر فروخت کیا جا رہا تھا۔دوسری طرف سبزیوں کی قیمتوں میں بھی 50 روپے سے زائد کا اضافہ کر دیا گیا ہے، ٹماٹر 100 سے 120 روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے، کریلا 120 روپے کلو، پالک 80 روپے میں فروخت ہونے لگی۔ اروی 150 روپے کلو، کھیرا 80 روپے، بھنڈی 200 روپے کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ ۔شہر میں دودھ 120 روپے فی لیٹر فروخت کیا جانے لگا ہے جب کہ انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی بدستور جاری ہے، ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر شاکر گجر نے دعوی کیا ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے دودھ کی قیمت بڑھانی پڑی۔انھوں نے کہا کہ ڈیری فارمرز نے دودھ 120 روپے فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…