پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

آئند ہ مہنگائی کی شرح کس طرف جاتی ہوئی نظر آرہی ہے ؟ گورنر اسٹیٹ بینک نے اشارہ دیدیا

datetime 2  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(آن لائن)گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ اب معیشت میں بہتری ہورہی ہے ہم پر امید ہیں، آئندہ مہنگائی کی شرح میں کمی کے واضح امکانات ہیں۔تفصیلات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے جن اہم چیلنجز پر فوکس کیا وہ اب بہتر ہورہے ہیں، 7 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ کم ہوا ہے، برآمدات بڑھنے سے بہت فائدہ ہوگا، برآمد کنندگان کو سہولت دی ہے جس سے برآمدات میں بھی بہتری ہوگی۔رضا باقر کا کہنا تھا کہ ہم نے مشکل فیصلے کیے ہیں اور ان فیصلوں کے نتائج آرہے ہیں، سپلائی چین درست ہونے سے بھی بہتری ہوگی۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ جتنا زیادہ زرمبادلہ ذخائر ہوگا وہ ملک اتنا ہی خود مختار ہوگا، گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر پر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، زرمبادلہ ذخائر معاشی خودمختاری اورآزادی فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چند ماہ میں زرمبادلہ ذخائر 12.5 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں، معاشی صورتحال میں بہتری ہورہی ہے، اصلاحات کی وجہ سے چیزیں بہتر ہوتی نظر آرہی ہیں۔رضا باقر کے مطابق مانیٹر پالیسی کمیٹی نے شرح سود بڑھایا کیونکہ مہنگائی بڑھ رہی تھی، افراط زر کے جو اعدادوشمار آئے ہیں وہ حوصلہ افزا ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اسٹیٹ بینک نے آخری مرتبہ جولائی 2019 میں اضافہ کیا تھا، افراط زر میں روپے کی قدر کم کرنا اور اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔انہوں نے کہا کہ قرض لینے والوں سے زیادہ بچت کرنے والے ہیں، پاکستان میں بچت کرنے والوں کو منفی شرح منافع دیا جاتا ہے، شرح سود پر قرض لینے والوں کی بات کی جاتی ہے، بچت کرنے والوں پر نہیں ہوتی، قومی بچت پر شرح منافع 11 فیصد اور افراط زر 12.4 فیصد ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…