پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس نے عالمی منڈی میں تیل مزید سستا کر دیا، پاکستان میں بھی نمایاں کمی ہونے کا امکان

datetime 2  مارچ‬‮  2020 |

بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین سے باہر مزید ممالک میں وائرل پھیلنے کے ساتھ ہی تیل کی قیمت میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ عالمی سطح پر طلب میں مزید کمی بتائی جارہی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ سے ایگزون اور شیورون جیسی بڑی آئل کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں اچانک کمی دیکھی گئی جبکہ چھوٹی کمپنیوں کی جانب سے نوکریوں میں کمی کی جارہی ہے۔

چین سے باہر حالیہ دنوں میں وائرس کے سیکڑوں نئے کیسز سامنے آئے ہیں کووڈ-19 بیماری کا سبب بنتے ہیں۔واضح رہے کہ میکسیکو، بیلاروس، لتھوانیا، نیوزی لینڈ، نائیجیریا، آذربائیجان، آئس لینڈ اور نیدرلینڈ میں پہلے کیسز سامنے آنے کے بعد اس وائرس سے متاثرہ ممالک کی تعداد 60 کے قریب پہنچ گئی ہے۔دنیا بھر میں 88 ہزار سے زائد افراد اس بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔آئل انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کو خوف ہے کہ اس کی وجہ سے زیادہ سفری پابندیاں سامنے آئیں گی جس سے مزید کم تیل کا استعمال ہوسکتا ہے۔ایس اینڈ پی گلوبل پلیٹس میں ریفائننگ اور زراعت کے سربراہ کلاڈیو گلیمبرٹی نے کہا کہ یہ خدشہ شروع سے ہی تھا کہ یہ وائرس صرف چین میں ہی نہیں رہے گا۔انہوں نے کہاکہ چند کیسز میں پورے پورے شہر ہیں اور چند علاقے اس وقت لاک ڈاؤن میں ہیں اور جب آپ لاک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہیں تو لوگ گھر سے کام کرتے ہیں، فیکٹریاں بند ہوجاتی ہیں، لوگ سفر نہیں کرتے ہیں جس سے تیل پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔فروری کے وسط میں تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی کمی دیکھی گئی تھی تاہم چین میں وائرس کے نئے کیسز کی تعداد کم ہونے کے بعد وہ واپس بڑھ رہی تھی تاہم گزشتہ ہفتے وائرس کے دنیا بھر میں پھیلنے کی رپورٹس کے بعد قیمتوں میں دوبارہ کمی کے دیکھی جارہی ہے۔امریکی خام تیل کا بینچ مارک رواں ہفتے کے دوران 16 فیصد گر گیا جو کاروباری ہفتے

کے آخری روز 44.76 ڈالر فی بیرل پر آکر رکا دوسری جانب برینٹ کروڈ میں 14 فیصد کی کمی سے جولائی 2017 کے بعد سے اپنی نچلی سطح پر آگیا جو گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز 50.52 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔یکم مارچ سے پاکستان میں بھی حکومت نے قیمتیں کم کر دی ہیں لیکن عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید گرنے سے پاکستان میں بھی قیمتوں میں نمایاں کمی ہونے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…