منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سال نو کا آغاز ،عوام کیلئے مہنگائی کا جن بوتل سے نکل آیا پیٹرول، بجلی اور گیس کے ساتھ آٹے کی قیمت کو بھی پر لگ گئے، حکومت نے قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا

datetime 1  جنوری‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن )حکومت نے سال نو کے آغازپر پیٹرول، بجلی اور گیس کے بعد آٹے کی قیمت میں بھی اضافے کی منظوری دیدی۔تفصیلات کے مطابق مارکیٹ ذرائع کے مطابق بلوچستان میں آٹےکے 20 کلو تھیلےکی قیمت میں 80 روپےکا اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے جس کے بعد 20 کلو تھیلےکی قیمت 1100 روپے تک پہنچ گئی ہے۔مارکیٹ ذرائع کا بتانا ہےکہ گزشتہ ماہ بھی آٹے کے 20 کلو تھیلے کی

قیمت میں 50 روپےکا اضافہ ہوا تھا اور گزشتہ ماہ آٹے کا تھیلا 970 روپے تک میں فروخت کیا جارہا تھا۔اسی طرح کراچی کے چکی آٹاکے 10کلو تھیلےکی قیمت میں بھی 50 روپےکااضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد چکی آٹے کے 10 کلو کے تھیلے کی قیمت 700 روپے ہوگئی ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ 2 ماہ کے دوران کراچی کےچکی آٹےکی قیمت میں دوبار اضافہ ہوا اور 2 ماہ قبل چکی آٹے کا تھیلا600 روپے تک میں فروخت کیاجارہا تھا۔دوسری جانب ہائی کورٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ چیلنج کرتے ہوئے رٹ دائر کر دی گئی ہے۔متفرق درخواست ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی جانب سے دائر کی گئی جس میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، وزارت پٹرولیم اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا معاملہ عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہے اور حکومت نے اس بابت کابینہ سے منظوری بھی نہیں لی۔ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عدالت سے استدعا کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے نئے سال کے آغاز پر پاکستانیوں کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تحفہ دے دیا ہے اور اس ضمن میں نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

وفاقی وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا ہے اس کا اطلاق یکم جنوری 2020 سے ہوگیا ہے۔حکومتی اعلامیہ کے تحت پیٹرول کی قیمت میں دو روپے 61 پیسے فی لیٹرکا اضافہ کیا گیا ہے جب کہ ڈیزل کی قیمت میں دو روپے25 پیسے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں تین روپے دس پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں دو روپے آ ٹھ پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…