منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے شوگر مافیا کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے‘‘ پنجاب میں شوگر ملیں بند ہونے سے کسانوں کے صوبہ بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے

datetime 31  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) شوگر مافیا نے پنجاب بھر میں اپنی شوگر ملوں کو بند کر دیا ہے جس کے بعد صوبے بھر میں کسانوں کے مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں جبکہ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومتوں نے شوگر مافیا کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں، شوگر ملیں بند ہونے سے گندم کے کاشت رقبہ میں کمی کا امکان جس کے نتیجے میں ملک میں غذائیت کے بحران کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ پنجاب کے

شوگر مافیا نے تمام ملیں بند کر دی ہیں جس کیخلاف صوبہ بھر کے کسانوں کے مظاہرے اور پرتشدد کارروائیاں پھوٹ پڑی ہیں پولیس اور کسانوں کے مابین ہاتھا پائی اور پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں کسانوں نے بڑے بڑے شہروں کی شاہرائیں بند کر رکھی ہیں شوگر مافیا نے کسانوں کو اعتماد میں لئے بغیر اپنی شوگر ملیں بند کر رکھی ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں گنا سے بھری ٹرالیاں شوگر ملوں کے باہر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑی ہیں جس  سے گنا کے کسانوں کا اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے مل مالکان نے کوئی وجہ بتائے بغیر ملیں بند کی ہیں۔ گزشتہ روز چنیوٹ ، لالیاں، جھنگ، فیصل آباد، ننکانہ، سرگودھا، منڈی بہائو الدین، لیہ، رحیم یار خان، راجن پور کے ہزاروں کسانوں نے اپنے اپنے اضلاع میں مل مالکان کیخلاف شدید مظاہرے کئے ہیں اور ملوں کو فوری چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت پنجاب نے اس حوالے سے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ وفاقی حکومت بھی مکمل خاموش ہے کسانوں کے مسائل اور گنا کے کاشتکاروں کے مسائل کی نہ پنجاب اسمبلی میں کوئی شنوائی ہو رہی ہے اور نہ ہی ان مسائل کو اسمبلیوں کے اندر اٹھایا جا رہا ہے جس سے کسان مایوس ہیں۔ ڈی جی جھنگ نے کسانوں سے کامیاب مذاکرات کئے جس سے جھنگ ٹوبہ روڈ کو دوبارہ ری اوپن کر دیا گیا ہے پنجاب حکومت نے شوگر مافیا کیخلاف نہ ریونیو ایکٹ کے تحت کارروائی کی ہے کیونکہ شوگر مافیا کا ٹائوٹ اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنے والا واجد بخاری کمشنر گنا پنجاب ہیں جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب بھی شوگر مافیا کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…